مواد پر جائیں
سرکاری دعویٰکاروبار

افغانستان بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں انتہائی خوش حساب ہے، ایک ریال بھی بقایا نہیں: ایرانی وزیر توانائی

ایران کے وزیر توانائی عباس علی آبادی نے کابل کے دورے کے بعد کہا کہ افغانستان نے ایران سے درآمد کردہ بجلی کی ادائیگی باقاعدگی سے کی ہے اور تہران کا بجلی کی فروخت کی مد میں کوئی بقایا نہیں۔ دو ہزار میگاواٹ بجلی کی ممکنہ فراہمی پر بھی بات چیت ہوئی۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

کابل: ایران کے وزیر توانائی عباس علی آبادی نے افغانستان کے ساتھ توانائی کی تجارت پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان فریق بجلی کی خریداری کے واجبات کی ادائیگی میں انتہائی خوش حساب ہے اور ایران کا افغانستان سے بجلی کی فروخت کی مد میں ایک ریال بھی وصول طلب نہیں۔

ایرانی نشریاتی ادارے صدا و سیما سے منسوب 10 اکتوبر 2026 کی رپورٹ میں علی آبادی کا بیان سامنے آیا کہ افغانستان کی جانب سے خریدی گئی توانائی کے حسابات باقاعدگی سے طے کیے جاتے ہیں۔ افغان ذرائع ابلاغ نے بھی ایرانی وزیر کے دورے کے بعد یہی مؤقف رپورٹ کیا۔ یہ بیان ایران سے خریدی گئی بجلی کے بقایا جات سے متعلق ہے، افغانستان کے مجموعی ملکی قرضوں یا دوسرے ممالک کے ساتھ اس کے تمام مالی معاملات کے بارے میں نہیں۔

ایرانی وزیر توانائی 7 اکتوبر کو کابل پہنچے تھے۔ دو روزہ دورے میں انہوں نے افغان وزیر مالیہ ملا محمد ناصر آخند، وزیر صنعت و تجارت نورالدین عزیزی اور توانائی کے شعبے کے دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں۔ بات چیت کا محور توانائی کی فراہمی، پانی کے انتظام، صنعتی تعاون، کسٹمز اور تجارتی سہولتوں میں بہتری تھا۔

افغان وزارت صنعت و تجارت اور علاقائی خبر رساں اداروں کے مطابق دونوں ملکوں کے نمائندوں نے ایران سے افغانستان کو تقریباً دو ہزار میگاواٹ بجلی کی ممکنہ فراہمی، بجلی پیدا کرنے والے آلات، پانی صاف کرنے کی ٹیکنالوجی اور مشترکہ سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔ اس تجویز کے بارے میں ابھی حتمی مالی معاہدے، ترسیل کا شیڈول اور نئے بجلی منصوبوں کے مکمل ہونے کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

عباس علی آبادی نے کہا کہ ایران افغانستان کے ساتھ اپنے ثقافتی اور ہمسایگی کے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور بجلی، پانی اور صنعتی تکنیکی تجربہ مشترک کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ افغان حکام نے بھی سرحدی تجارت میں سہولت اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع کی خواہش ظاہر کی۔

ایرانی وزیر کا واجبات سے متعلق مثبت بیان افغانستان کے لیے دوطرفہ توانائی تجارت میں قابلِ ذکر پیش رفت ہے۔ تاہم کسی ایک ملک کے ساتھ بجلی کی ادائیگی بروقت ہونا بذات خود افغانستان کی مجموعی معیشت کو قرض سے پاک ثابت نہیں کرتا۔ اس کے لیے ملکی بجٹ، سرکاری قرضوں، دیگر بیرونی ادائیگیوں، درآمدات، برآمدات اور مالی ذخائر کے مستند اعدادوشمار الگ سے درکار ہوں گے۔

موجودہ پیش رفت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کابل اور تہران توانائی اور تجارت میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ مستقبل میں اس تعاون کے عملی معاشی فوائد کا انحصار بجلی کی ترسیل میں اضافے، قابلِ عمل سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کی تکمیل پر ہوگا۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/iran-minister-aliabadi-afghan-electricity-bills-no-dues-oct-2026?lang=ur