مارگلہ نیوز | خصوصی تجزیہ
افغانستان کے آن لائن اشاعتی ادارے المرصاد پر غیاث الدین غوری سے منسوب ایک سخت تنقیدی کالم میں پاکستان کی داخلی بدامنی، عسکری پالیسیوں اور افغانستان کے اندر فضائی کارروائیوں پر متعدد سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کالم کا اصل عنوان پاکستان میں بدامنی: فوجی رجیم کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ! ہے۔ اس میں مصنف نے دلیل دی ہے کہ پاکستان کے اندر سیاسی اور معاشی مسائل کو حل کرنے کے بجائے افغانستان پر الزام لگانا اور فوجی طاقت کا استعمال علاقائی کشیدگی بڑھا سکتا ہے۔
غیاث الدین غوری کے مؤقف کے مطابق پاکستانی قیادت نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بار بار سکیورٹی کے زاویے سے دیکھا، جبکہ اندرون ملک طویل عسکری کارروائیوں کے باوجود تشدد کے واقعات ختم نہیں ہو سکے۔ ان کی رائے میں اس ناکامی کا جائزہ صرف سرحد پار مسلح گروہوں کے حوالے سے نہیں، بلکہ سیاسی اختیارات، شہری حقوق، علاقائی محرومیوں اور ریاستی پالیسی کے تاریخی تسلسل کی روشنی میں بھی ہونا چاہیے۔
مصنف نے افغانستان میں فضائی حملوں اور شہری آبادی کو پہنچنے والے نقصان پر بھی تنقید کی ہے۔ یہ معاملہ صرف ان کے ذاتی بیان تک محدود نہیں: اقوام متحدہ کے معاون مشن یوناما نے 26 فروری سے 5 مارچ 2026 کے درمیان افغان سرزمین پر سرحد پار لڑائی اور فضائی حملوں کے نتیجے میں 56 شہری ہلاکتیں اور 129 زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ یکم اکتوبر کی کارروائیوں کے بعد بھی اقوام متحدہ نے شہری ہلاکتوں کی تصدیق کی۔ یہ اعدادوشمار مخصوص ادوار کے ہیں؛ انہیں تمام حملوں یا ہر الزام کی مجموعی توثیق نہیں سمجھا جاسکتا۔
پاکستانی فوج اور حکومتی عہدیدار اس نوعیت کی کارروائیوں کے دفاع میں تحریک طالبان پاکستان سمیت مسلح گروہوں کی افغان سرزمین پر مبینہ موجودگی اور پاکستان کے اندر مہلک حملوں کا ذکر کرتے ہیں۔ اسلام آباد کے مطابق اس کی عسکری کارروائیوں کے اہداف مسلح تنظیموں کے ٹھکانے اور ان کا انفراسٹرکچر ہیں۔ افغان طالبان حکام پاکستان کے بعض الزامات رد کرتے ہیں اور فضائی حملوں کو قومی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔ دونوں طرف کے متضاد دعووں کی الگ جانچ ضروری ہے۔
اصل کالم میں اس سے زیادہ سنگین الزام بھی لگایا گیا ہے کہ پاکستان کی بعض ریاستی قوتوں نے مسلح تنظیموں کو پناہ، تربیت یا تعاون فراہم کیا۔ تاہم فراہم کردہ تحریر میں ان الزامات کی تائید کے لیے کوئی قابلِ تصدیق سرکاری دستاویز، عدالتی فیصلہ یا آزاد تحقیق پیش نہیں کی گئی۔ اس لیے انہیں غیاث الدین غوری کے دعوے کے طور پر ہی سمجھنا چاہیے، ثابت شدہ حقیقت کے طور پر نہیں۔
کالم میں مختلف پاکستانی مسلح تحریکوں کو مقامی محرومیوں اور حقوق کے مطالبات کے پس منظر سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ایک قابلِ بحث سیاسی تعبیر ہے۔ کسی علاقے کے شہریوں کی جائز شکایات کا اعتراف ضروری ہے، لیکن اس سے شہریوں، اسکولوں، بازاروں یا پولیس اہلکاروں پر مسلح حملوں کو قانونی یا اخلاقی جواز نہیں ملتا۔ پرامن سیاسی جدوجہد اور دہشت گردی و مسلح تشدد کے درمیان بنیادی فرق برقرار رکھنا چاہیے۔
مصنف افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد امن و استحکام کی مثبت تصویر بھی پیش کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اگست 2026 کے جائزے میں افغانستان کے اندر طویل جنگ کے مقابلے میں مجموعی سلامتی میں بہتری تسلیم کی، مگر اسی کے ساتھ خواتین و لڑکیوں کی تعلیم، روزگار، نقل و حرکت اور شہری حقوق پر پابندیوں کو ملک کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ اس لیے افغانستان میں جنگی تشدد میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ تمام افغان شہری مساوی آزادی اور حقوق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
پاکستان کی معاشی مشکلات اور سلامتی کے خدشات کے باہمی تعلق پر اٹھایا گیا سوال بھی اہم ہے۔ مسلسل عسکری کشیدگی، سرحدی تجارت کی بندش، آمدورفت میں رکاوٹیں اور غیر یقینی کاروباری ماحول دونوں معاشروں کو متاثر کرتے ہیں۔ مگر معاشی مسائل کی تمام ذمہ داری کسی ایک عسکری ادارے، پڑوسی ملک یا ایک ہی سیاسی فیصلے پر ڈال دینا پیچیدہ حقائق کو غیر ضروری طور پر سادہ بنا دیتا ہے۔
پاکستان میں ریاستی اداروں کے سیاسی کردار، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے شہری مسائل، منتخب نمائندگی اور پائیدار انسداد دہشت گردی حکمت عملی پر آزادانہ بحث کی ضرورت اپنی جگہ قائم ہے۔ دوسری طرف افغان حکام پر بھی لازم ہے کہ اپنی سرزمین سے دوسرے ممالک کے خلاف منظم مسلح کارروائیوں کے خدشات دور کرنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات اور معلومات فراہم کریں۔
دونوں ملکوں کے عوام کے لیے بنیادی ضرورت یہ ہے کہ کسی بھی حملے میں شہری نقصان کی آزاد تحقیقات ہو، سرحدی سلامتی کے بارے میں مخصوص شواہد کا تبادلہ ہو، تجارتی راستے حتی الامکان کھلے رہیں اور تنازعات حل کرنے کے لیے مستقل سفارتی رابطے قائم کیے جائیں۔ کسی بھی فریق کی ریاستی ناکامی یا دوسرے فریق کے مظالم پر سوال اٹھانا جائز ہے، مگر غیر مصدقہ الزامات، اجتماعی نفرت یا مسلح تشدد کی توجیہہ امن کا متبادل نہیں۔
ادارتی وضاحت: یہ مضمون المرصاد پر غیاث الدین غوری سے منسوب اصل کالم کی مارگلہ نیوز کی جانب سے تیار کردہ آزادانہ تحریری و تحقیقی جانچ ہے، اصل کالم کی لفظ بہ لفظ نقل یا مکمل ترجمہ نہیں۔ اصل ویب صفحے کی براہ راست رسائی اس جانچ میں ممکن نہ ہو سکی؛ کالم کا متن اور نسبت صارف کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔ متن میں شامل سنگین سیاسی الزامات کو ان کے مصنف سے منسوب رکھا گیا ہے اور مارگلہ نیوز انہیں بطور ادارہ ثابت شدہ حقائق قرار نہیں دے رہا۔
