پکتیا، 10 اکتوبر 2026: افغانستان کے جنوب مشرقی صوبہ پکتیا کی ڈنڈ پٹھان سرحدی پٹی میں افغان اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مارگلہ نیوز کی بریکنگ پٹی میں بھی اس پیش رفت کو ابتدائی اطلاع کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
تاحال اس مخصوص تازہ واقعے کے آغاز کے وقت، فائرنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں، ممکنہ ہلاکتوں، زخمیوں یا سرحدی چوکیوں کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں قابلِ اعتماد تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کی جانب سے اس واقعے کی الگ باضابطہ تصدیق بھی سامنے نہیں آئی۔
ڈنڈ پٹھان ضلع افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر واقع ہے۔ اس علاقے اور ملحقہ سرحدی مقامات پر گزشتہ ہفتوں میں بھی افغان اور پاکستانی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ستمبر کے آخر میں مقامی ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں اسی سرحدی علاقے میں تقریباً دو گھنٹے تک جھڑپوں کا ذکر کیا گیا تھا، جبکہ پکتیا کے دوسرے سرحدی حصوں میں بھی فائرنگ اور شہری املاک کو نقصان پہنچنے کی سابقہ اطلاعات موجود ہیں۔ ان پرانے واقعات کو 10 اکتوبر کی نئی اطلاع کی تصدیق نہیں سمجھا جاسکتا۔
پاکستانی حکام سرحدی کارروائیوں کو مسلح گروہوں کی مبینہ دراندازی اور قومی سلامتی کے خدشات سے جوڑتے رہے ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت پاکستانی حملوں اور سرحدی خلاف ورزیوں پر اعتراض کرتی رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی نے سرحدی علاقوں میں شہریوں، مسافروں اور تجارت کے لیے مسلسل غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے۔
یہ خبر ابتدائی اطلاعات پر مبنی ہے۔ تازہ جھڑپ کی آزادانہ تصدیق، دونوں طرف کے سرکاری بیانات اور انسانی یا مالی نقصانات کی قابلِ اعتماد تفصیل موصول ہونے پر اسے اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
