مواد پر جائیں

225 حملے، 259 ہلاکتیں: گورنر راج کے سکیورٹی جواز میں اعدادوشمار کیا بتاتے ہیں، کیا نہیں؟

ستمبر 2026 کی پی آئی سی ایس ایس رپورٹ کے اعدادوشمار، صوبائی و قومی فرق اور سکیورٹی ڈیٹا سے سیاسی نتائج اخذ کرنے کی حدود پر تحقیقی جائزہ۔

شائع شدہ

تازہ کاری

5 منٹ مطالعہ

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کا سرکاری جواز سکیورٹی کی خراب صورتحال ہے، لیکن اس موضوع پر گفتگو میں قومی اور صوبائی اعدادوشمار کو الگ رکھنا ضروری ہے۔ ستمبر 2026 کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی ماہانہ رپورٹ ایک اہم ابتدائی ماخذ فراہم کرتی ہے، تاہم یہ خود کسی آئینی مداخلت کا قانونی فیصلہ نہیں سناتی۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر میں ملک بھر میں عسکریت پسندوں کے 225 حملے ہوئے؛ اگست میں یہ تعداد 199 تھی۔ اس حساب سے حملوں میں تقریباً 13.1 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ ستمبر میں 259 اموات اور 242 زخمی رپورٹ کیے گئے، جبکہ اگست میں بالترتیب 158 اموات اور 181 زخمی تھے۔ یاد رہے کہ یہ پاکستان بھر کے اعداد ہیں، صرف خیبر پختونخوا کے نہیں۔

اعداد میں پہلا دھوکا: ملک اور صوبے کا خلط

ایک سرخی میں لکھ دیا جائے کہ 225 حملے ہوئے اور اگلے جملے میں خیبر پختونخوا کی حکومت پر بات شروع کر دی جائے تو قاری کے ذہن میں فوراً صوبے کے بارے میں غلط تاثر بن سکتا ہے۔ پی آئی سی ایس ایس نے ستمبر 2026 کے لیے 225 حملوں کا جو عدد دیا، وہ پورے پاکستان کا تھا۔ اس میں بلوچستان کا حصہ 131 حملے بتایا گیا۔ اگر صوبے سے متعلق قانونی قدم کا جواز جانچنا ہو تو قومی کل کو صوبائی کل کے طور پر پیش کرنا بنیادی تحقیقی غلطی ہوگی۔

دوسرا مسئلہ حملوں اور ان کی ہلاکت خیزی کے درمیان فرق ہے۔ کسی علاقے میں حملے کم ہوں مگر ہلاکتیں بڑھ جائیں تو دونوں حقیقتیں ایک ساتھ درست ہو سکتی ہیں۔ اس لیے سکیورٹی کے جائزے میں حملوں کی تعداد، شہری اموات، فورسز کے نقصانات، زخمیوں کی تعداد اور حملے کی شدت الگ درج ہونا چاہیے۔ صرف ایک عدد سے پورے رجحان کا نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا۔

مہینے کی تبدیلی پوری کہانی نہیں

اگست سے ستمبر میں حملوں کا بڑھنا تشویش ناک ہے، مگر دو مہینوں کے اعداد پوری تاریخ نہیں بتاتے۔ موسمی تبدیلی، انتخابی یا احتجاجی سرگرمیاں، سرحدی تناؤ اور سکیورٹی کارروائیوں کا انداز واقعات کی تعداد پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ایک بہتر تحقیقی جائزے میں کم از کم کئی مہینوں کا رجحان اور اسی مدت میں متاثرہ اضلاع کی تقسیم دیکھنا چاہیے۔

مزید یہ کہ مختلف اداروں کی شمار کرنے کی تعریفیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ کہیں حملے میں زخمی ہونے والا فرد شمار کیا جاتا ہے، کہیں دھماکا اور فائرنگ کے الگ اصول ہیں، اور کہیں ایک مشترکہ کارروائی مختلف سرخیوں میں نظر آ سکتی ہے۔ اس لیے پی آئی سی ایس ایس یا کسی دوسرے ادارے کے اعداد کو درست طریقے سے پیش کرنے کے لیے ان کی تعریف، ماخذ اور ممکنہ حدود کا ذکر ضروری ہے۔

کیا ڈیٹا حکمرانی کی ناکامی ثابت کرتا ہے؟

وفاق نے صوبائی انتظامیہ کے انسدادِ دہشت گردی سے الگ ہونے کا الزام لگایا۔ یہ دعویٰ قانونی و انتظامی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ حملوں کے اعداد سکیورٹی کا شماریاتی رخ دکھاتے ہیں۔ دونوں میں براہِ راست تعلق ثابت کرنے کے لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ کون سے ادارے کے پاس کس وقت کیا اختیار تھا، کتنا بجٹ دستیاب تھا اور کس کارروائی میں کس کی ہدایت رکی۔

مثلاً اگر کسی ضلع میں حملہ بڑھا تو اس کی وجہ مقامی انٹیلی جنس، پراسیکیوشن، غیر محفوظ راستہ یا کسی آپریشن کی ناکامی میں سے کیا تھی؟ ذمہ داری کے تعین کے بغیر صرف حملوں کی تعداد سے کسی ایک سیاسی فریق کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ نکالنا تحقیقی احتیاط کے خلاف ہوگا۔

عوام کے لیے مفید سکیورٹی ڈیش بورڈ کیسا ہو؟

ایک شفاف ڈیٹا ماڈل میں ضلع وار ماہانہ حملے، ہلاکتیں، شہری و سکیورٹی اہلکاروں کا الگ شمار، ردعمل کا وقت اور مقدمات کی تفتیش کے مراحل شامل ہو سکتے ہیں۔ ایسی معلومات سے شہری اور ماہرین دیکھ سکیں گے کہ نئی انتظامی تبدیلی کے بعد اصل میں کیا بہتر ہوا اور کیا باقی رہا۔

آج کے کالم کا اہم نکتہ یہی ہے: اعدادوشمار سیاسی تقریر کی آرائش نہیں بلکہ قابلِ تصدیق معلومات ہیں۔ ان کو مناسب جغرافیہ، مدت اور تعریف کے بغیر استعمال کرنا ریاستی سلامتی جیسے حساس مسئلے میں قاری سے ناانصافی ہوگی۔

جغرافیائی تقسیم یہاں فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔ ادارے کے مطابق ستمبر کے 225 حملوں میں سے 131 بلوچستان میں ہوئے، یعنی 58 فیصد سے زیادہ۔ رپورٹ نے خیبر پختونخوا میں بعض علاقوں کی ہلاکت خیزی میں اضافے کی نشاندہی کی، جبکہ سابق فاٹا اضلاع میں حملوں کی تعداد گھٹنے کا ذکر بھی کیا۔ اس لیے صرف 225 حملوں کا قومی عدد دکھا کر اسے صوبہ خیبر پختونخوا کا عدد کہنا غلط ہوگا۔

رپورٹ نے انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں بھی سرگرمی نوٹ کی: ستمبر میں 74 نمایاں کارروائیاں درج ہوئیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سکیورٹی فورسز پہلے سے متحرک تھیں۔ لیکن ایک ماہ کے حملے اور کارروائیوں کی تعداد سے یہ طے نہیں ہو جاتا کہ تعاون کہاں رکا، فیصلہ سازی کا اختیار کس کے پاس تھا یا کس مخصوص صوبائی پالیسی کی وجہ سے ناکامی ہوئی۔

وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبائی انتظامیہ پر انسدادِ دہشت گردی سے جان بوجھ کر الگ ہونے کا الزام لگایا۔ اس دعوے کو جانچنے کے لیے آزاد سکیورٹی ڈیٹا کے علاوہ اجلاسوں کے تحریری ریکارڈ، اداروں کو جاری ہدایات، بجٹ کے استعمال، حملوں کے بعد کی تحقیقات اور وفاق و صوبے کے درمیان خط و کتابت بھی ضروری ہوگی۔ فی الحال ان تمام مواد کی مکمل آزادانہ جانچ یہاں پیش نہیں کی جا رہی۔

حکومتی فیصلہ درست تھا یا نہیں، یہ الگ قانونی و سیاسی بحث ہے۔ سکیورٹی اعدادوشمار یہ ثابت کرتے ہیں کہ خطرہ حقیقی اور سنگین ہے؛ لیکن وہ اکیلے یہ ثابت نہیں کرتے کہ خاص آئینی اقدام ناگزیر تھا۔ اچھی تحقیق کا تقاضا یہی ہے کہ خطرے کی شدت، ذمہ داری کی تعیین اور تجویز کردہ حل کی افادیت تین الگ سوالوں کی طرح پرکھے جائیں۔

مارگلہ نیوز اس رپورٹ میں قومی اعداد کو صوبائی اعداد کے طور پر پیش نہیں کرتا اور سرکاری الزامات کو آزاد تحقیق کا مصدقہ نتیجہ قرار نہیں دیتا۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

  2. اپ ڈیٹ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-11-picss-september-2026-kp-security-data-governor-rule-claims?lang=ur