مواد پر جائیں

خوست میں چلغوزے کی پیداوار بہتر، افغان تاجروں کا عالمی برآمدی راستے اور پراسیسنگ کا مطالبہ

خوست، پکتیا اور پکتیکا میں بارشوں کے بعد چلغوزے کی پیداوار بہتر بتائی جا رہی ہے، مگر تاجروں کا کہنا ہے کہ محدود برآمدی منڈیوں اور مقامی پراسیسنگ کی کمی سے منافع متاثر ہوتا ہے۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

تازہ کاری

1 منٹ مطالعہ

مارگلہ نیوز | 10 اکتوبر 2026

خوست: جنوب مشرقی افغانستان میں چلغوزے کے تاجروں نے بتایا ہے کہ اس سال خوست، پکتیا اور پکتیکا میں پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر ہے۔ تاہم برآمدی راستوں، مصنوعات کی صفائی، گری نکالنے اور پیکنگ کی محدود سہولتوں کے باعث مقامی پیدا کنندگان کو مسائل کا سامنا ہے۔

پژواک افغان نیوز کی 10 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق مقامی تاجر چاہتے ہیں کہ برآمدات صرف ایک بڑی منڈی تک محدود نہ ہوں اور افغانستان کے اندر پروسیسنگ مراکز قائم ہوں۔ افغانستان چیمبر آف کامرس کے ترجمان کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 7500 ٹن چلغوزے 95 ملین ڈالر کی مجموعی مالیت میں چین، یورپی اور عرب منڈیوں کو بھیجے گئے تھے۔

اس سال کی فصل کا مجموعی حجم ابھی حتمی طور پر معلوم نہیں۔ نئی برآمدی سہولتیں، معیار کی جانچ اور مقامی پیکنگ میں سرمایہ کاری سے کاشتکاروں کی آمدنی بڑھنے کے امکانات ہیں، مگر عملی نتائج کا تعین بعد میں ہوگا۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

  2. اپ ڈیٹ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-10-15-afghanistan-khost-pine-nut-trade-exports?lang=ur