مواد پر جائیں

خیبر پختونخوا میں گورنر راج: افغان ادارے المرصاد کی 11 روز پرانی رپورٹ پھر توجہ کا مرکز

المرصاد نے 30 ستمبر کو خیبر پختونخوا کے اختیارات محدود کیے جانے کے منصوبے کا دعویٰ کیا تھا۔ 11 اکتوبر کو گورنر راج نافذ ہونے کے بعد اس رپورٹ کے بعض نکات سے مماثلت سامنے آئی، تاہم خفیہ سازش کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

تازہ کاری

2 منٹ مطالعہ

خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر 2026 کو ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہونے کے بعد افغانستان کے ادارے المرصاد کی 30 ستمبر کو شائع ہونے والی رپورٹ ایک مرتبہ پھر توجہ حاصل کر رہی ہے۔ اس رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کی وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے اختیارات محدود کرنے اور ہنگامی انتظام نافذ کرنے کے امکانات پر کام کر رہی ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ہنگامی اقدامات کی منظوری دی۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صوبائی کابینہ اور وزیراعلیٰ کے اختیارات گورنر کو منتقل کر دیے گئے ہیں اور صوبے کے انتظام کے لیے گیارہ رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے۔

یہ اعلان المرصاد کی رپورٹ کے گیارہ روز بعد سامنے آیا۔ اس لیے افغان ادارے کی رپورٹ اور بعد میں کیے گئے سرکاری فیصلے کے درمیان پائی جانے والی مماثلت ایک قابلِ توجہ صحافتی پہلو بن گئی ہے۔

المرصاد نے 30 ستمبر کو اپنی خبر میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی وفاقی حکومت اور فوج خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی انتظامیہ کے اختیارات ختم کرنا چاہتی ہیں۔ نامعلوم ذرائع سے منسوب رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امن و امان کی صورتِ حال کو بنیاد بنا کر پہلے ایمرجنسی نافذ کی جائے گی، پھر انتظامی اختیارات صوبائی حکومت سے واپس لیے جائیں گے۔

تاہم رپورٹ کے تمام نکات کی تصدیق نہیں ہوئی۔ المرصاد نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ صوبے میں حملوں کو جان بوجھ کر بڑھانے کی منصوبہ بندی ہے اور بالآخر کسی حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی جنرل کو صوبے کی سربراہی دی جا سکتی ہے۔ ان الزامات کے حق میں آزادانہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔ موجودہ سرکاری انتظام کے مطابق صوبے کے اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہوئے ہیں، کسی فوجی جنرل کی تقرری کا اعلان نہیں ہوا۔

پاکستانی وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی میں اضافے اور صوبائی حکومت کے ساتھ سکیورٹی تعاون کے مسائل نے غیر معمولی آئینی اقدام ضروری بنا دیا۔ دوسری طرف تحریک انصاف نے منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ختم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے اس فیصلے کو جمہوری مینڈیٹ کے خلاف قرار دیا ہے۔

یوں 30 ستمبر کی افغان رپورٹ نے ایک اہم سیاسی امکان کی پیشگی نشاندہی ضرور کی، جبکہ 11 اکتوبر کی پیش رفت نے اس کے کچھ بنیادی نکات کو ایک نئے تناظر میں رکھ دیا۔ لیکن رپورٹ میں بیان کردہ وسیع تر خفیہ منصوبے، حملوں کی مبینہ منصوبہ بندی یا افغان انٹیلی جنس کی براہِ راست شمولیت جیسے دعوے اب بھی الگ شواہد کے محتاج ہیں۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

  2. اپ ڈیٹ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/kp-governor-rule-almirsaad-september-30-advance-report-analysis-2026-10-11?lang=ur