مواد پر جائیں

دوست کے لباس میں دشمن؟ افغانستان کے زخم، پاکستان کی دوہری پالیسی اور تاریخ کا تلخ فیصلہ

عثمان منصور اپنے کالم میں 2001 کے بعد پاکستان کی افغان پالیسی، طالبان سے تعلقات، سرحدی فضائی حملوں، شہری ہلاکتوں اور افغان مہاجرین کی بے دخلیوں کا جائزہ لیتے ہوئے افغانستان کی خودمختاری اور دونوں ملکوں کے شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔

شائع شدہ

16 منٹ مطالعہ

جس طالبان کو اسلام آباد نے اپنا اثاثہ سمجھا، آج اسی کابل پر بم کیوں برسائے جا رہے ہیں؟

تاریخ میں دشمن ہمیشہ سرحد کے دوسری طرف کھڑا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وہ دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے، بھائی چارے کی بات کرتا ہے، مذہب اور مشترکہ ثقافت کے رشتے گنواتا ہے، لیکن جب مفادات کا امتحان آتا ہے تو اس کے فیصلوں کی قیمت کسی دوسری قوم کے بچوں، گھروں اور مستقبل کو ادا کرنا پڑتی ہے۔

افغانستان کی گزشتہ نصف صدی کی تاریخ میں ایسے کئی کردار ملتے ہیں۔

سوویت یونین آیا، جنگ ہوئی، لاکھوں افغان بے گھر ہوئے۔ امریکا آیا، بیس برس تک جنگ جاری رہی، ہزاروں شہری مارے گئے، شہر اور دیہات تباہ ہوئے۔ لیکن ان تمام واقعات کے درمیان ایک کردار ایسا بھی موجود تھا جو نہ مکمل طور پر باہر تھا اور نہ پوری طرح اندر۔

وہ افغانستان کا پڑوسی تھا۔

پاکستان۔

وہی پاکستان جو افغانوں کو اپنا مسلمان بھائی کہتا رہا۔ جس نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی۔ جس کے شہروں میں افغان خاندانوں نے نئی زندگیاں شروع کیں۔ لیکن وہی پاکستان جس کی بعض ریاستی اور عسکری پالیسیوں پر افغانستان کے معاملات میں مداخلت، مسلح گروہوں کی سرپرستی اور افغان خودمختاری کو نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات بھی لگتے رہے۔

سوال یہ نہیں کہ پاکستان کے ہر عمل کے پیچھے افغان دشمنی تھی۔

اصل سوال اس سے زیادہ تلخ ہے۔

کیا اسلام آباد نے افغانستان کو کبھی ایک مکمل خودمختار ریاست سمجھا، یا اسے ہمیشہ اپنے علاقائی مفادات، بھارت کے ساتھ رقابت اور اسٹریٹجک گہرائی کے تصور کے تحت دیکھتا رہا؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں اکتوبر 2001 کی طرف لوٹنا ہوگا۔

امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا۔ طالبان حکومت ختم ہوگئی۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ شروع ہوئی۔

پاکستان کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے واشنگٹن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان امریکی فوجی کارروائیوں، رسد اور علاقائی تعاون کا اہم شراکت دار بن گیا۔

لیکن اس کہانی کا ایک دوسرا رخ بھی تھا۔

امریکی کانگریس کی تحقیقی رپورٹس، سابق امریکی عسکری حکام کے بیانات اور بین الاقوامی تجزیوں میں بار بار یہ الزامات سامنے آئے کہ پاکستان کے خفیہ ادارے کے بعض عناصر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہوئے تھے۔

یعنی پاکستان کی سرکاری پالیسی واشنگٹن کے ساتھ تعاون تھی، جبکہ اس کے بعض سکیورٹی حلقوں کے بارے میں الزام تھا کہ وہ انہی افغان مسلح گروہوں کو سہارا دے رہے ہیں جن کے خلاف امریکا اور افغان حکومت جنگ لڑ رہے تھے۔

یہی وہ تضاد تھا جسے دنیا نے پاکستان کے دوہرے کھیل کے نام سے پہچانا۔

ذرا اس صورتحال پر غور کیجیے۔

افغانستان میں جنگ ہورہی تھی۔

افغان شہری مارے جارہے تھے۔

افغان سرکاری اہلکار، پولیس، فوجی اور عام شہری حملوں کا نشانہ بن رہے تھے۔

ایک طرف امریکا افغانستان میں مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیاں کررہا تھا۔ دوسری طرف ان گروہوں کی قیادت اور پناہ گاہوں کے بارے میں بار بار پاکستان کا نام سامنے آتا تھا۔

پاکستانی حکام ان الزامات کی تردید کرتے رہے، مگر امریکی حکام اور مختلف تحقیقی اداروں کی رپورٹوں میں یہ معاملہ مسلسل موجود رہا۔

ستمبر 2011 میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین افسر ایڈمرل مائیک مولن نے حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی خفیہ ادارے کے تعلقات کے بارے میں غیر معمولی سخت الزامات عائد کیے۔

یہ کوئی کابل کے کسی گمنام سیاست دان کی تقریر نہیں تھی۔

یہ امریکا کے ایک اعلیٰ عسکری عہدیدار کا مؤقف تھا۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے۔

اگر پاکستان واقعی افغانستان میں امن چاہتا تھا تو اس کی ریاستی پالیسی کے مختلف حصوں کے بارے میں ایسے متضاد شواہد کیوں سامنے آتے رہے؟

اور اگر بعض افغان مسلح گروہوں کو علاقائی مفادات کے لیے اہم سمجھا جاتا تھا تو افغان شہریوں کی جانوں، افغانستان کے اداروں اور اس کی ریاستی خودمختاری کی کیا حیثیت تھی؟

یہیں سے افغانستان کے بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں پاکستان کے بارے میں عدم اعتماد پیدا ہوا۔

کیونکہ کھلے دشمن کا سامنا کرنا ایک بات ہے، مگر ایسے پڑوسی کے ساتھ رہنا دوسری بات جس کی دوستی اور سلامتی کی پالیسیوں کے درمیان تضاد محسوس ہوتا ہو۔

لیکن اس پوری کہانی میں ایک اور حقیقت بھی شامل ہے۔

پاکستان خود دہشت گردی کا شکار بنا۔ تحریک طالبان پاکستان نے پاکستانی شہریوں، اسکولوں، مساجد اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ پاکستان کے ہزاروں خاندانوں نے بھی اپنے پیارے کھوئے۔

اس لیے پاکستانی عوام کے دکھ کو افغان عوام کے دکھ کے مقابل کھڑا کرنا ناانصافی ہوگی۔

البتہ ریاستی پالیسیوں سے ایک سوال ضرور پوچھا جاسکتا ہے۔

جن مسلح نیٹ ورکس کو کبھی علاقائی حکمت عملی کا حصہ سمجھا گیا، ان کے پھیلاؤ کی قیمت آخر دونوں ملکوں کے عام انسانوں کو کیوں ادا کرنا پڑی؟

اب اگست 2021 کا منظر دیکھیے۔

بیس سالہ جنگ ختم ہورہی تھی۔ امریکا افغانستان سے نکل رہا تھا۔ افغان جمہوریہ کی حکومت تیزی سے منہدم ہورہی تھی اور طالبان کابل میں داخل ہوچکے تھے۔

پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے طالبان کی واپسی کے تناظر میں غلامی کی زنجیریں توڑنے کا مشہور بیان دیا۔

پاکستان کے بعض سیاسی اور مذہبی حلقوں میں طالبان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار ہوا۔

ایسا تاثر پیدا ہوا جیسے اسلام آباد کو افغانستان میں ایک ایسی حکومت مل گئی ہے جس کے ساتھ اس کے تعلقات گزشتہ حکومتوں سے زیادہ آسان ہوں گے۔

مگر پھر کچھ ایسا ہوا جس نے ساری توقعات بدل دیں۔

طالبان اقتدار میں آگئے، لیکن پاکستان اور افغانستان کے اختلافات ختم نہیں ہوئے۔

ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ باقی رہا۔

تحریک طالبان پاکستان کا مسئلہ مزید سنگین ہوا۔

سرحدی جھڑپیں ہوئیں۔

پاکستان نے افغان حکومت پر مسلح گروہوں کو پناہ دینے کے الزامات لگائے۔

کابل نے ان الزامات کو مسترد کیا اور پاکستان کی فضائی کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔

وہ طالبان جنہیں اسلام آباد کے بعض حلقے کبھی اپنے لیے موافق سمجھتے تھے، اب پاکستان کے ساتھ شدید تنازع میں الجھ گئے۔

یہاں تاریخ ایک غیر معمولی سوال کرتی ہے۔

کیا پاکستان افغانستان میں ایک آزاد حکومت چاہتا تھا، یا ایسی حکومت جس کے فیصلے پاکستانی سلامتی کے تصورات کے مطابق ہوں؟

اس سوال کا جواب کسی ایک تقریر سے نہیں مل سکتا۔ لیکن گزشتہ کئی دہائیوں کی پالیسیوں پر بحث کرتے وقت اسے نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔

اور پھر وہ مرحلہ آیا جب سفارتی اختلافات نے براہِ راست شہری زندگی کو متاثر کرنا شروع کردیا۔

فروری اور مارچ 2026 کی سرحدی کشیدگی کے دوران افغانستان میں فضائی حملوں اور توپ خانے کی کارروائیوں سے شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

اقوام متحدہ کے افغانستان مشن نے 26 فروری سے 5 مارچ تک کم از کم 56 شہریوں کی ہلاکت اور 129 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔

ان متاثرین میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔

پکتیکا کے ضلع برمل میں 27 فروری کے فضائی حملوں میں چودہ شہری ہلاک ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

اب ایک لمحے کے لیے تمام سیاسی بیانات، فوجی نقشے اور سرکاری پریس کانفرنسیں ایک طرف رکھ دیجیے۔

صرف ایک افغان ماں کے بارے میں سوچیے۔

اس کا گھر افغانستان میں ہے۔ اس کے بچے افغانستان میں ہیں۔ اس نے کسی دوسرے ملک کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں کیا۔ اسے عسکری اتحادوں اور علاقائی حکمت عملیوں کی تفصیلات بھی شاید معلوم نہ ہوں۔

لیکن ایک دن اس کے علاقے میں بم گرتا ہے۔

اس کے خاندان کی زندگی بدل جاتی ہے۔

اور پھر اسے بتایا جاتا ہے کہ یہ سب قومی سلامتی کے نام پر ہوا۔

سوال یہ ہے کہ قومی سلامتی کا یہ کون سا تصور ہے جس میں ایک ملک کی حفاظت کے لیے دوسرے ملک کے بے گناہ شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا قابلِ قبول سمجھ لیا جائے؟

پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد حملے کیے جاتے ہیں اور اسے اپنے شہریوں کے دفاع کا حق حاصل ہے۔

یہ ایک سنجیدہ سلامتی کا مسئلہ ہے، جسے حل کرنا ضروری ہے۔

لیکن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اور شہریوں کی حفاظت دو الگ ذمہ داریاں نہیں۔ بین الاقوامی انسانی قانون دونوں کا تقاضا کرتا ہے۔

اگر کسی کارروائی میں بچے مارے جائیں تو یہ پوچھنا بے جا نہیں کہ اہداف کے انتخاب، شہریوں کے تحفظ اور طاقت کے استعمال میں کس حد تک احتیاط کی گئی۔

اب یکم اکتوبر 2026 کی طرف آئیے۔

افغانستان کے کنڑ اور ہلمند صوبوں میں فضائی حملے ہوئے۔

اقوام متحدہ نے کم از کم دس شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی، جن میں زیادہ تر بچے تھے، جبکہ نو افراد زخمی ہوئے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2026 میں سرحد پار مسلح تشدد کے نتیجے میں افغانستان میں شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی مجموعی تعداد گیارہ سو سے تجاوز کرچکی تھی۔

یہ اعدادوشمار صرف اعداد نہیں۔

ان میں گھروں کے چراغ ہیں۔

ان میں وہ بچے ہیں جن کی زندگی ابھی شروع ہی ہوئی تھی۔

ان میں ایسے والدین ہیں جنہوں نے جنگیں دیکھیں، ہجرت برداشت کی، غربت سہی، مگر اپنی اولاد کو محفوظ نہ رکھ سکے۔

اور یہاں اسلام آباد کے پالیسی سازوں کے سامنے ایک سخت سوال کھڑا ہوتا ہے۔

اگر پاکستان اپنے شہریوں پر ہونے والے حملوں کو ناقابلِ قبول سمجھتا ہے، تو افغان شہریوں کی ہلاکتوں پر بھی اسی سنجیدگی سے جواب دہی کیوں ضروری نہ ہو؟

کیا سرحد بدل جانے سے انسانی جان کی قیمت بدل جاتی ہے؟

کیا افغان بچے کی زندگی پاکستانی بچے کی زندگی سے کم اہم ہے؟

ہرگز نہیں۔

یہی وہ اصول ہے جو کابل اور اسلام آباد دونوں پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔

مگر افغانستان کے زخموں کی داستان یہاں ختم نہیں ہوتی۔

اس کا ایک دوسرا باب پاکستانی شہروں، مہاجر کیمپوں اور سرحدی گزرگاہوں میں لکھا گیا۔

افغان مہاجرین۔

وہ خاندان جو سوویت جنگ، خانہ جنگی، طالبان کے مختلف ادوار اور مسلسل بدامنی کے دوران پاکستان آئے تھے۔

ان میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جن کے بچے پاکستان میں پیدا ہوئے، وہیں بڑے ہوئے اور جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسی معاشرے میں گزاری۔

پاکستانی عوام نے دہائیوں تک لاکھوں افغانوں کو پناہ دی۔ بہت سے لوگوں نے افغان خاندانوں کے ساتھ کاروبار کیے، رشتے قائم کیے اور مشکل وقت میں مدد کی۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کا اعتراف کرنا ضروری ہے۔

لیکن اسی تاریخ کا ایک تلخ باب 2023 کے بعد کھلا۔

پاکستان نے افغان باشندوں کی بڑے پیمانے پر واپسی اور بے دخلی کی مہم شروع کی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے پولیس کے چھاپوں، غیر قانونی حراست، رشوت طلب کیے جانے، خاندانوں کی علیحدگی اور زبردستی واپس بھیجنے کی شکایات دستاویزی شکل میں پیش کیں۔

اپریل 2026 میں ہیومن رائٹس واچ نے رپورٹ کیا کہ پاکستانی پولیس کی کارروائیوں میں افغان مہاجرین، حتیٰ کہ بعض قانونی دستاویزات رکھنے والے افراد بھی، گرفتار کیے گئے۔

کچھ خاندانوں نے بتایا کہ انہیں اپنے بچوں سے جدا کردیا گیا۔

بعض افغان صحافیوں کو بھی واپس بھیجا گیا، حالانکہ افغانستان میں انہیں طالبان حکومت کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کا خطرہ لاحق تھا۔

ذرا اس تضاد کو دیکھیے۔

ایک طرف افغانوں کو اسلامی اخوت اور مشترکہ تاریخ کے رشتے یاد دلائے جاتے ہیں۔

دوسری طرف بعض خاندانوں کو ایسے حالات میں واپس بھیجا جاتا ہے جہاں نہ روزگار کی ضمانت ہے، نہ رہائش کی، نہ سلامتی کی۔

ایک مہاجر جو چالیس برس سے کسی شہر میں زندگی گزار رہا ہو، اسے اچانک اجنبی قرار دینا صرف انتظامی فیصلہ نہیں ہوتا۔

یہ اس کی پوری زندگی کو متاثر کرتا ہے۔

اس کے بچوں کی تعلیم رک سکتی ہے۔

اس کا کاروبار ختم ہوسکتا ہے۔

اس کی جمع پونجی ضائع ہوسکتی ہے۔

اور اگر اسے ایسے ملک میں واپس بھیجا جائے جہاں اسے حقیقی خطرات لاحق ہوں تو معاملہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کا بھی بن جاتا ہے۔

یہاں پاکستانی ریاست کی پالیسی پر سخت تنقید کرنا ضروری ہے۔

کسی حکومت کو اپنے امیگریشن قوانین نافذ کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن اس حق کے ساتھ انسانی وقار، قانونی طریقۂ کار، خاندانوں کے تحفظ اور پناہ گزینوں کے بنیادی حقوق کی ذمہ داری بھی آتی ہے۔

کسی مہاجر کو صرف اس کی قومیت کی بنیاد پر مجرم نہیں سمجھا جاسکتا۔

لیکن افغانستان کے لیے اس بحران نے ایک اور حقیقت بھی واضح کردی۔

پاکستان پر معاشی اور سفارتی انحصار کم کرنا اب محض تجارتی سہولت کا سوال نہیں رہا، بلکہ قومی خودمختاری اور معاشی تحفظ کا معاملہ بھی بن گیا۔

پاکستان اور افغانستان کی سرحدی بندشوں نے افغان تاجروں کو بھاری نقصان پہنچایا۔

چمن اور طورخم جیسے راستوں پر تجارت متاثر ہوئی۔ مال بردار گاڑیاں رکیں۔ کاروباری معاہدے غیر یقینی کا شکار ہوئے۔

افغان تاجروں نے ایران کی بندرگاہوں اور وسطی ایشیائی راستوں کی طرف زیادہ توجہ دینی شروع کی۔

یہ تبدیلی کسی ایک ملک کے خلاف اعلانِ جنگ نہیں تھی۔

یہ معاشی خطرات کم کرنے کی کوشش تھی۔

کیونکہ جو قوم اپنے لیے مختلف راستے کھول سکتی ہو، وہ ایک ہی راستے کی بندش سے مکمل طور پر مفلوج نہیں ہوتی۔

یہیں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔

کیا پاکستان کے لیے بہتر یہ نہیں تھا کہ وہ افغان تاجروں کے لیے اپنے راستوں کو اتنا قابلِ اعتماد اور پرکشش بناتا کہ متبادل موجود ہونے کے باوجود افغانستان پاکستانی بندرگاہوں کو ترجیح دیتا؟

یہی وہ فرق ہے جو دباؤ اور اعتماد کے درمیان موجود ہے۔

دباؤ فوری اطاعت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اعتماد دیرپا تعلقات پیدا کرتا ہے۔

اور ریاستوں کے تعلقات میں دیرپا مفادات اعتماد کے بغیر محفوظ نہیں رہتے۔

اب ذرا گزشتہ پچیس برسوں کو ایک ساتھ رکھیے۔

2001 میں پاکستان امریکا کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہوا۔

اسی دور میں اس کے بعض ریاستی اداروں پر افغان طالبان کی حمایت کے سنگین الزامات لگے۔

2021 میں طالبان دوبارہ کابل میں اقتدار میں آگئے۔

پاکستان کے بعض حلقوں نے اسے اپنے علاقائی مفادات کے لیے سازگار تبدیلی سمجھا۔

لیکن پھر یہی تعلق شدید کشیدگی میں تبدیل ہوگیا۔

پاکستان نے طالبان حکومت پر تحریک طالبان پاکستان کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے کا الزام لگایا۔

افغانستان نے پاکستان پر اپنی فضائی حدود اور خودمختاری کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے۔

سرحدیں بند ہوئیں۔

تجارت متاثر ہوئی۔

افغان مہاجرین کی بے دخلیوں میں اضافہ ہوا۔

اور شہری ہلاکتوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید تلخ بنادیا۔

اس پوری تاریخ کو دیکھ کر یہ سوال اٹھانا فطری ہے کہ پاکستان کی افغان پالیسی میں مسئلہ صرف کسی ایک حکومت سے اختلاف تھا یا افغانستان کے بارے میں اس کا بنیادی تصور ہی بار بار تنازعات پیدا کرتا رہا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں اور افغانستان میں اس کی موجودگی کے بارے میں بین الاقوامی رپورٹس میں بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

افغان حکومت پر لازم ہے کہ اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

لیکن پاکستان کی ذمہ داری بھی اتنی ہی واضح ہے۔

اسے افغانستان کی خودمختاری، شہریوں کے تحفظ اور مہاجرین کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔

کسی ایک فریق کی ذمہ داری دوسرے کی خلاف ورزی کو جائز نہیں بناتی۔

اب اس کہانی کا آخری اور سب سے اہم کردار سامنے آتا ہے۔

افغانستان کا عام شہری۔

وہ افغان جو نہ ماسکو کی سیاست کا حصہ ہے، نہ اسلام آباد کی عسکری حکمت عملی کا، نہ واشنگٹن کے منصوبوں کا اور نہ تہران کی علاقائی ترجیحات کا۔

وہ صرف ایک باعزت زندگی چاہتا ہے۔

اپنے بچوں کے لیے تعلیم چاہتا ہے۔

اپنے گھر کے لیے امن چاہتا ہے۔

اپنے کاروبار کے لیے کھلے راستے چاہتا ہے۔

اور اپنی سرزمین پر بیرونی حملوں سے تحفظ چاہتا ہے۔

یہی افغان شہری اس پوری کہانی کا اصل ہیرو ہے۔

وہ اپنی تاریخ کی وجہ سے قابلِ احترام ہے، مگر اس سے بھی زیادہ اس لیے کہ اس نے غیر معمولی مشکلات میں زندہ رہنے اور اپنا مستقبل بہتر بنانے کی کوشش جاری رکھی ہے۔

اس کے وقار کے لیے کسی دوسری قوم سے نفرت ضروری نہیں۔

اس کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے کسی بھی حکومت کی ہر پالیسی کی حمایت ضروری نہیں۔

افغانستان کے اندر بھی ایسے سنگین مسائل ہیں جنہیں حل کرنا ہوگا، خصوصاً خواتین کی تعلیم، روزگار، بنیادی حقوق اور تمام شہریوں کی آزادیوں سے متعلق پابندیاں۔

لیکن ان مسائل کا وجود کسی پڑوسی ریاست کو افغان شہریوں کی زندگی یا سرزمین کے ساتھ غیر ذمہ دارانہ سلوک کا حق نہیں دیتا۔

افغانستان کی خودمختاری کوئی احسان نہیں جو اسے دوسروں سے مانگنا پڑے۔

یہ اس کا حق ہے۔

افغان شہریوں کی جان کی حفاظت کوئی رعایت نہیں۔

یہ ان کا بنیادی انسانی حق ہے۔

اور کسی افغان مہاجر کے ساتھ انسانی سلوک کرنا کوئی سیاسی مہربانی نہیں۔

یہ انسانی وقار اور قانونی ذمہ داری کا تقاضا ہے۔

اس لیے پاکستان کی افغانستان سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے سب سے اہم مطالبہ یہی ہونا چاہیے کہ سرحد پار مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کا خاتمہ ہو، شہریوں کو حملوں سے محفوظ رکھا جائے، جبری بے دخلیوں اور غیر قانونی حراستوں کا سلسلہ بند ہو اور اختلافات کو طاقت کے بجائے سفارت کاری سے حل کیا جائے۔

سید جمال الدین افغانی کی فکر کا ایک اہم پہلو بھی یہی تھا کہ سیاسی بیداری کے ساتھ علم، اصلاح اور خودمختاری کی ضرورت کو سمجھا جائے۔

آج افغانستان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ وہ کس ملک کے خلاف نفرت پیدا کرسکتا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ وہ کس طرح اپنی تاریخ کے زخموں کو قومی شعور میں، اپنے جغرافیے کو معاشی مواقع میں اور اپنی خودمختاری کو عوام کی خوشحالی میں تبدیل کرسکتا ہے۔

اور پاکستان کے لیے سوال یہ ہے کہ وہ افغانستان کو اپنی سلامتی کے کسی ذیلی منصوبے کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک برابر کے پڑوسی کی حیثیت سے کب قبول کرے گا۔

کیونکہ افغانستان کے لوگوں نے جنگوں کی بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔

اب انہیں مزید تجربات کی سرزمین نہیں بنایا جانا چاہیے۔

پاکستان کی ریاستی پالیسیوں کا احتساب مانگنا پاکستانی عوام کی توہین نہیں۔

افغانستان کے شہریوں کے حقوق کا دفاع کرنا طالبان حکومت کی تمام پالیسیوں کی تائید نہیں۔

اور افغان خودمختاری کا احترام کرنے کا مطالبہ پاکستان کے حقیقی سلامتی خدشات سے انکار نہیں۔

یہ اصولی مؤقف ہے کہ کسی بھی ریاست کی سلامتی دوسری قوم کے بے گناہ شہریوں کی زندگی کی قیمت پر قائم نہیں ہونی چاہیے۔

افغانستان کو اب دوسروں کی جنگوں، علاقائی رقابتوں اور خفیہ حکمت عملیوں کی قیمت ادا کرنے سے نجات ملنی چاہیے۔

اور اسلام آباد کو یہ سمجھنا ہوگا کہ افغانستان کے ساتھ پائیدار تعلق کی بنیاد دباؤ، سرحدی بندشوں اور فوجی طاقت پر نہیں، بلکہ برابری، احترام اور قابلِ اعتماد تعاون پر رکھی جاسکتی ہے۔

تاریخ کا فیصلہ شاید یہی ہوگا کہ طاقتور ہونے کا مطلب ہمیشہ درست ہونا نہیں، اور کمزور ہونے کا مطلب ہمیشہ بے اختیار ہونا نہیں۔

افغانستان کی اصل طاقت اس کے لوگوں کی استقامت ہے۔

اس کا مستقبل کسی دوسرے دارالحکومت کی مرضی سے نہیں، اس کے اپنے عوام کے حقوق، صلاحیتوں اور فیصلوں سے تشکیل پانا چاہیے۔

اور اس مستقبل کے لیے سب سے پہلی شرط ہے:

افغانستان کے ساتھ جنگی میدان نہیں، ایک خودمختار وطن جیسا سلوک کیا جائے۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/usman-mansoor-afghanistan-pakistan-dual-policy-opinion-2026-10-10?lang=ur

اگلا قدم

رائے کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں

اس سیکشن کی مزید تازہ خبریں Latest میں دیکھیں۔