واشنگٹن: ایکسپریس ٹریبیون پر شائع رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی آٹھ ریاستوں کے دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اٹارنی جنرلز نے مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی کے خلاف ملک کی مختلف عدالتوں میں مقدمات دائر کر دیے ہیں۔
ان ریاستوں میں آئیووا، کینساس اور ایریزونا شامل ہیں، جنہوں نے اپنی اپنی ریاستی عدالتوں میں الگ الگ مقدمات دائر کیے۔ مقدمات میں الزام لگایا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے نوعمروں سمیت صارفین کو خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کی رہنمائی کی۔
درخواستوں کے مطابق چیٹ بوٹ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ صارف کی ہاں میں ہاں ملائے اور اسے مصروف رکھے تاکہ اس کا اعتماد جیت سکے۔ ریاستوں کا دعویٰ ہے کہ یہ چیٹ بوٹ صارفین کے وہم کو تقویت دیتا ہے، خطرناک رویوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اجتماعی فائرنگ جیسے پرتشدد واقعات کی منصوبہ بندی میں مدد کرتا ہے۔
ریاستوں نے کمپنی پر صارفین کو چیٹ جی پی ٹی کے محفوظ ہونے کے بارے میں گمراہ کر کے ریاستی صارف تحفظ قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے، اور کہا ہے کہ کمپنی نے اپنے شہریوں کی صحت کو خطرے میں ڈال کر 'پبلک نیوسنس' پیدا کیا۔
مقدمات میں عدالتوں سے ایسے احکامات مانگے گئے ہیں جن کے تحت اوپن اے آئی چیٹ جی پی ٹی کے کام کرنے کے طریقے میں تبدیلیاں کرے۔ ریاستیں یہ بھی چاہتی ہیں کہ کمپنی کو اپنے آپ کو خود بہتر بنانے والے اے آئی ماڈل تیار کرنے سے اس وقت تک روکا جائے جب تک وہ یہ یقینی نہ بنا لے کہ یہ ماڈل انسانی اقدار سے ہم آہنگ ہیں۔
رائٹرز کے مطابق یہ کسی اے آئی کمپنی کے خلاف ریاستوں کی اب تک کی سب سے بڑی مربوط کارروائی ہے، اور یہ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اوپن اے آئی اسٹاک مارکیٹ میں لسٹنگ کی تیاری کر رہی ہے۔ فلوریڈا کے اٹارنی جنرل نے جون میں اس نوعیت کا پہلا ریاستی مقدمہ دائر کیا تھا۔
