بغداد: الجزیرہ کے مطابق عراقی حکومت نے ملکی کرنسی دینار کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد کم کر دی ہے تاکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جا سکیں اور تیل کی آمدن میں کمی کا خلا پُر کیا جا سکے۔
عراق کے مرکزی بینک نے 7 اکتوبر کو عوام کے لیے نقد فروخت کا نیا سرکاری ریٹ 1,520 دینار فی ڈالر مقرر کیا، جو اس سے پہلے 1,320 دینار تھا۔ کمزور دینار کی وجہ سے حکومت کو تیل سے حاصل ہونے والے ہر ڈالر کے بدلے زیادہ مقامی کرنسی ملتی ہے، جس سے سرکاری اخراجات پورے کرنے میں مدد ملتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ مالی بحران امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث پیدا ہوا۔ جنگ سے پہلے عراق اس راستے سے روزانہ تقریباً 35 لاکھ بیرل تیل برآمد کرتا تھا، جو حکومتی آمدن کا 90 فیصد بنتا تھا۔ حالیہ ہفتوں میں برآمدات جزوی طور پر بحال ہوئی ہیں مگر جنگ سے پہلے کی سطح پر نہیں پہنچیں۔
عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے جمعرات کو پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات میں کہا کہ 'یہ میرا فیصلہ ہے اور میں اس کی ذمہ داری لیتا ہوں۔' ان کے مطابق ان کے پاس تین مشکل راستے تھے: تنخواہوں میں 35 فیصد کٹوتی، ہر 45 دن بعد تنخواہوں کی ادائیگی، یا غیر ملکی قرضے۔ انہوں نے بتایا کہ مئی میں اقتدار سنبھالتے وقت حکومت کو 208 ٹریلین دینار (نئے ریٹ پر تقریباً 139 ارب ڈالر) سے زیادہ کا سرکاری قرض ورثے میں ملا، جبکہ تنخواہوں اور دیگر لازمی اخراجات کے لیے ہر ماہ تقریباً 10 ٹریلین دینار (6.7 ارب ڈالر) درکار ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق وزیر اعظم کے مالیاتی مشیر مظہر محمد صالح نے اگست میں بتایا تھا کہ مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 106 ارب ڈالر سے کم ہو کر تقریباً 80 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ حکومت تنخواہوں کے لیے مقامی بینکوں سے قرض بھی لے رہی ہے۔
بغداد کی بڑی ہول سیل منڈی جمیلہ مارکیٹ کے تاجر حمزہ الردینی نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس فیصلے سے انہیں راتوں رات ڈھائی کروڑ دینار (تقریباً 16,500 ڈالر) کا نقصان ہوا جبکہ بڑے تاجروں کا نقصان اربوں میں ہے۔ ان کے مطابق تاجر سامان ڈالر میں خریدتے ہیں مگر قانوناً دینار میں بیچنے کے پابند ہیں، اس لیے کئی تاجروں نے صورتحال مستحکم ہونے تک خرید و فروخت روک دی ہے۔
بصرہ کی المعقل یونیورسٹی کے ماہر معاشیات نبیل المرسومی نے کہا کہ شرح مبادلہ میں ردوبدل تمام دیگر راستے آزمانے کے بعد ہی ہونا چاہیے اور اسے ریاست کی معاشی اور مالیاتی پالیسیوں کی ناکامی چھپانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
