عالمی منڈی میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے سودے ایک ڈالر 64 سینٹ یا 1.6 فیصد کمی سے 104.42 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 98 سینٹ یا ایک فیصد کمی سے 94.11 ڈالر فی بیرل پر رہا۔ اس طرح گزشتہ روز کا اضافہ ختم ہو گیا۔
سرمایہ کار ایک طرف آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر حملوں کے باعث رسد کو لاحق خطرات اور دوسری طرف امریکہ کی ان کوششوں کا جائزہ لے رہے ہیں جن کا مقصد جہازوں پر پابندیاں نرم کر کے تیل کی ترسیل کے اخراجات کم کرنا ہے۔ روئٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بدھ کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ روس، ایران اور وینزویلا سمیت مختلف ممالک سے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات لے جانے والے نام نہاد شیڈو فلیٹ جہازوں پر پابندیاں نرم کرنے پر غور کر رہی ہے، کیونکہ ایران جنگ کے باعث مال برداری کے اخراجات ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
اس سے پچھلے سیشن میں ڈبلیو ٹی آئی تین ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا، جب حوثیوں نے سعودی آرامکو کے ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا اور ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئی حکمت عملی اپنانے کا اعلان کیا۔ بحری حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے کے قریب ایک کنٹینر جہاز اور ایک ڈرائی بلک کیریئر الگ الگ واقعات میں نشانہ بننے کے بعد ڈوب گئے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کے مطابق سرمایہ کار توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی ای اے) کی تازہ ماہانہ رپورٹ کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ڈیزل کی منڈی میں رکاوٹیں اگلے سال تک برقرار رہ سکتی ہیں اور سعودی عرب پر نئے حملے تیل کی رسد کی بحالی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تجارتی پلیٹ فارم آئی سی ایم کے فراس بچواتی کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت نہ ہونے سے آبی گزرگاہ کے مکمل طور پر کھلنے کا فوری امکان کم ہے، تاہم سعودی خام تیل متبادل راستوں سے خریداروں تک پہنچ رہا ہے اور آئی ای اے کے رکن ممالک کی جانب سے ہنگامی ذخائر کے اجرا سے قیمتوں میں تیز اضافہ رکا ہوا ہے۔
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے عالمی قیمتوں کا یہ اتار چڑھاؤ اہم ہے، کیونکہ مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی نرخوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
