امریکی اسٹریمنگ کمپنی نیٹ فلکس نے دنیا بھر میں تقریباً ایک ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق یہ 2022 کے بعد کمپنی میں ملازمین کی سب سے بڑی کٹوتی ہے اور یہ اس کی مجموعی افرادی قوت کا تقریباً 6 فیصد بنتی ہے۔
ٹیک کرنچ کو کمپنی نے تصدیق کی کہ زیادہ تر کٹوتیاں پروڈکٹ، ٹیکنالوجی، قانونی اور انسانی وسائل کے شعبوں میں ہوں گی۔ کمپنی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے اختتام پر نیٹ فلکس کے کل وقتی ملازمین کی تعداد تقریباً 16 ہزار تھی۔
ملازمین کو بھیجی گئی ای میل میں شریک چیف ایگزیکٹوز ٹیڈ سارینڈوس اور گریگ پیٹرز نے کہا کہ کمپنی اپنی سروس بہتر بنانے اور ترقی کے لیے "زیادہ اثر والے شعبوں میں بھرپور سرمایہ کاری جاری رکھے گی"۔ ان کے مطابق کمپنی اپنے مالیاتی اہداف پورے کرنے کی راہ پر ہے۔ مینیجرز جلد متاثرہ ملازمین کو آگاہ کریں گے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب اسٹریمنگ کی صنعت میں انضمام کا عمل جاری ہے اور یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے مفت پلیٹ فارم ناظرین کا وقت حاصل کر رہے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق نیٹ فلکس، وارنر برادرز کو خریدنے کی دوڑ میں پیراماؤنٹ سے پیچھے رہ گئی تھی۔ ٹیڈ سارینڈوس گزشتہ ماہ کہہ چکے تھے کہ کمپنی "اتنی تیزی سے ترقی نہیں کر رہی جتنی میں چاہتا ہوں"۔
انویسٹوپیڈیا کے مطابق رواں سال نیٹ فلکس کے حصص کی قیمت تقریباً 25 فیصد گر چکی ہے۔ کمپنی 20 اکتوبر کو تیسری سہ ماہی کے مالیاتی نتائج جاری کرے گی۔ اس سے پہلے نیٹ فلکس نے 2022 میں تقریباً 450 ملازمتیں ختم کی تھیں، جب ایک دہائی میں پہلی بار اس کے صارفین کی تعداد کم ہوئی تھی۔
