پاکستانی کمپنی گو گو موٹرز (GU GO Motors) اور چین کے شینگ تانگ گروپ نے پاکستان میں الیکٹرک بسیں تیار کرنے کے لیے مجوزہ مشترکہ منصوبے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔ یادداشت پر دستخط بدھ کو اسلام آباد میں پاکستان چائنا بزنس فورم کی اس تقریب میں ہوئے جو عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 77ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔
وزارت صنعت و پیداوار اور سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت بڑھانا اور "میڈ اِن پاکستان" کے تحت برآمد کے قابل گاڑیاں تیار کرنے کے امکانات تلاش کرنا ہے۔ منصوبے کی مالیت یا پیداوار شروع ہونے کی تاریخ ظاہر نہیں کی گئی۔
تقریب کے مہمان خصوصی، وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا کہ پاک چین تعاون کے اگلے مرحلے کو صنعتی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مینوفیکچرنگ اور برآمدات میں اضافے کی صورت میں ٹھوس نتائج دینے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرک گاڑیوں کا شعبہ پاکستان کو مقامی سپلائی چین بنانے، جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے کا موقع دیتا ہے۔
ہارون اختر خان نے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری، پالیسیوں میں تسلسل اور ضوابط کو آسان بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق تقریب میں تقریباً 150 معزز شخصیات اور چین کے 14 رکنی تجارتی وفد نے شرکت کی۔
روزنامہ دی نیشن کے مطابق اس سے پہلے شینگ تانگ گروپ کے وفد نے ہارون اختر خان سے ملاقات میں ایک کروڑ ڈالر کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور صنعت، انفراسٹرکچر، سیاحت، الیکٹرک گاڑیوں، ریلوے، توانائی اور شہری ترقی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ اس ملاقات میں مشیر نے کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے مشترکہ منصوبوں اور مفاہمتی یادداشتوں میں سے تقریباً 40 فیصد پر عمل درآمد کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔
