ترکیہ کے جنوبی صوبے انطالیہ میں کیکووا جزیرے کے قریب زیر آب کھدائی کے دوران ایک ایسے تجارتی جہاز کے آثار ملے ہیں جسے ماہرین دنیا کا قدیم ترین بحری ملبہ قرار دے رہے ہیں۔ ترک وزیر ثقافت محمد نوری ارسوئے نے بدھ کو اس دریافت کا اعلان کیا۔
بی بی سی کے مطابق ماہرین نے اس جہاز کی عمر 4,400 سے 4,700 سال کے درمیان بتائی ہے، یعنی یہ ابتدائی کانسی کے دور سے تعلق رکھتا ہے، تقریباً وہی زمانہ جب مصر میں عظیم اہرام تعمیر ہو رہا تھا۔ جہاز کا لکڑی کا ڈھانچہ باقی نہیں رہا، تاہم سمندر کی تہہ میں تقریباً 30 میٹر گہرائی پر 30 سے زائد مٹی کے بڑے مرتبان (امفورا) اور پتھر کے تین لنگر ملے ہیں۔ اندازہ ہے کہ جہاز تقریباً 10 میٹر لمبا تھا۔
لکڑی نہ ہونے کے باعث ریڈیو کاربن طریقے سے عمر معلوم نہیں کی جا سکی، اس لیے ماہرین نے مرتبانوں کی بناوٹ کا موازنہ مصر اور مشرق وسطیٰ میں ملنے والے اسی دور کے برتنوں سے کیا۔ مہم کی قیادت کرنے والے اکدینیز یونیورسٹی کے پروفیسر حکان اونیز نے کہا کہ یہ ملبہ "سمندر کی تہہ میں ایک ٹائم کیپسول" ہے۔
الجزیرہ اور ترک خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق مٹی کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ برتن وادی اردن کی ورکشاپس میں بنائے گئے تھے، اور ان میں زیتون کا تیل یا شراب لے جائی جاتی تھی۔ آسٹریلیا کی میکواری یونیورسٹی کی ماہر ڈاکٹر کیرن سوواڈا کے مطابق کچھ مرتبانوں میں اب بھی گاڑھا مادہ موجود ہے جس کی جانچ جاری ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ جہاز بحیرہ روم کے مشرقی ساحل سے روانہ ہوا تھا اور قدیم شہر ٹرائے یا جزیرہ کریٹ کی طرف جا رہا تھا۔ اس سے پہلے دنیا کا قدیم ترین معلوم بحری ملبہ یونان کے جزیرے ڈوکوس کے قریب ملا تھا جو تقریباً 4,200 سال پرانا ہے۔
ترک وزیر ثقافت کے مطابق برآمد ہونے والے نوادرات انطالیہ میں قائم کیے جانے والے نئے بحیرہ روم زیر آب آثار قدیمہ میوزیم میں رکھے جائیں گے، جو آئندہ چند ماہ میں کھلنے والا ہے۔
