خیبر پختونخوا: وار مانیٹر کے مطابق کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے جمعہ کو جاری کیے گئے کئی بیانات میں ٹانک، بنوں اور جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں اور پرانی جھڑپوں کے جانی نقصان کے نئے اعداد و شمار بھی جاری کیے ہیں۔
ٹانک کے علاقے عمر خان کلے میں 13 اکتوبر کو ایک فوجی تنصیب پر حملے کے بارے میں گروپ نے اب دعویٰ کیا ہے کہ اس میں چار فوجی جاں بحق اور ایک کیپٹن سمیت سات شدید زخمی ہوئے۔ ٹی ٹی پی نے 16 اکتوبر کو ٹانک سٹی پولیس اسٹیشن پر کواڈ کاپٹر (ڈرون) حملے کا دعویٰ بھی کیا، تاہم اس میں کسی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔
بنوں میں گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے 16 اکتوبر کو باکا خیل کے علاقوں علی خیل اور سردی خیل میں فوجی پوزیشنوں پر حملے کیے، جن میں نگرانی کے آلات اور ایک سولر سسٹم کو نقصان پہنچا اور سردی خیل میں ایک اہلکار زخمی ہوا۔
جنوبی وزیرستان میں ٹی ٹی پی نے خیسورہ، تیارزہ اور سراروغہ کے علاقے انزرے میں سیکیورٹی چوکیوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ گروپ کے مطابق انزرے کے واقعے میں ایک اہلکار جاں بحق اور دو زخمی ہوئے، جبکہ خیسورہ کے بارے میں کوئی اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔ گروپ نے سابق ایف آر پشاور میں جانکور تھانے پر اپنے پہلے سے رپورٹ شدہ حملے کا بھی دوبارہ حوالہ دیا ہے۔
سرکاری سطح پر ان دعووں پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ وار مانیٹر کے مطابق ہلاکتوں، شناخت اور نقصان سے متعلق کسی بھی دعوے کی آزادانہ تصدیق ابھی نہیں ہو سکی۔ اصل رپورٹ وار مانیٹر اور وار مانیٹر کی ایکس پوسٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔
