مواد پر جائیں

سوات: 3 مبینہ شدت پسند ہلاک، ٹی ٹی پی کا انکار

سوات پولیس کا کہنا ہے کہ تھانہ کانجو کی حدود میں سخادب کے علاقے میں سی ٹی ڈی اور ضلعی پولیس کے مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں تین مبینہ عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ کالعدم ٹی ٹی پی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے مقابلے کو جعلی قرار دیا ہے۔

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

سوات: وار مانیٹر کے مطابق سوات پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ تھانہ کانجو کی حدود میں سخادب کے علاقے میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور ضلعی پولیس کے مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں تین مبینہ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔

پولیس نے ہلاک افراد کی شناخت عبداللہ ولد سید بشیر، منصور علی ولد عبدالمطلب اور غفران اللہ ولد افضل خان کے نام سے کی ہے۔

پولیس کا الزام ہے کہ ان افراد کا تعلق مظفر عرف خالد کی سربراہی میں ٹی ٹی پی کے ایک دھڑے سے تھا اور وہ رواں سال ہونے والے حملوں میں ملوث تھے۔ پولیس کے مطابق دو مشتبہ افراد فرار ہو گئے جبکہ موقع سے اسلحہ برآمد کیا گیا۔

دوسری جانب ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے پولیس کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ تینوں طالب علم تھے جو پہلے سے حراست میں تھے اور انہیں ایک جعلی مقابلے میں مارا گیا۔

دونوں فریقوں کے متضاد دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ اصل رپورٹ وار مانیٹر پر دیکھی جا سکتی ہے۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-15-wm-swat-kanju-three-killed-ttp-dispute?lang=ur

اگلا قدم

پاکستان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں