بنکاک: ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو انٹرویو میں کہا کہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا پہلا دھچکا پاکستان نے کامیابی سے برداشت کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے نومبر تک کے لیے توانائی کی ضروریات کا انتظام کر لیا ہے اور اب سردیوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جب گھریلو طلب عموماً بڑھ جاتی ہے۔ ان کے بقول ملک میں نہ کوئی قلت ہوئی، نہ پٹرول پمپوں پر قطاریں لگیں۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ جب تک 'انتہائی ناگزیر ضرورت' نہ ہو، حکومت ایل این جی کے مہنگے اسپاٹ کارگو نہیں خریدے گی۔
تاہم انہوں نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی تنصیبات، بشمول توانائی مراکز اور ہوائی اڈوں، پر حالیہ حملوں پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچتا رہا تو حالات بہتر ہونے کے بعد بھی معمول کی طرف واپسی میں زیادہ وقت لگے گا۔
اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ان کاروباری اداروں کو نشانے پر رکھے ہوئے ہے جو صارفین سے سیلز ٹیکس وصول کر کے سرکاری خزانے میں جمع نہیں کراتے، اور ان کے مطابق یہ چوری اربوں ڈالر تک پہنچتی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اصلاحات کو صنعت، لابی گروپوں اور مفاد پرست حلقوں کی مزاحمت کا سامنا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق وزیرِ خزانہ نے آئی ایم ایف کے مشرقِ وسطیٰ و وسطی ایشیا ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جہاد ازعور سے بھی ملاقات کی، جس میں محاصل، مہنگائی، شرحِ نمو، کرنٹ اکاؤنٹ اور سردیوں کے لیے توانائی کی خریداری پر بات ہوئی۔
مزید تفصیل ایکسپریس ٹریبیون پر۔
