مواد پر جائیں

ایران کی سمندری تجارت مکمل بند، امریکی کمانڈر کا دعویٰ

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ انسانی امداد کے سوا ایران کی سمندر کے راستے نہ کوئی برآمد ہو رہی ہے نہ درآمد، جبکہ برطانوی ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد کم ہے۔

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکی دباؤ مہم تین محاذوں پر مرکوز ہے: ایرانی تیل کی برآمد روکنا، ڈیجیٹل مالیاتی ذرائع میں خلل ڈالنا اور ایرانی سکیورٹی فورسز کی تنخواہیں ادا کرنے کی صلاحیت کمزور کرنا۔

کوپر کے دعوے کے مطابق امریکی افواج حالیہ مہینوں میں کم از کم 25 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی خام تیل کی برآمد روک چکی ہیں، اور امریکی اداروں کے ساتھ مل کر تقریباً 35 کروڑ ڈالر کے کرپٹو اثاثے منجمد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران سے وابستہ گروہ اپنے جنگجوؤں کی ادائیگیاں روک رہے ہیں اور پاسدارانِ انقلاب کو بھی تنخواہوں کی ادائیگی میں مشکلات ہیں۔

امریکی کمانڈر نے کہا کہ آبنائے ہرمز امریکہ اور اس کے علاقائی شراکت داروں کے کنٹرول میں ہے اور تجارتی جہاز رانی کے لیے کھلی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سات دنوں میں تقریباً 400 تجارتی جہاز آبنائے سے گزرے اور امریکی مدد سے خلیجی ممالک کا 10 کروڑ بیرل سے زائد خام تیل منتقل کیا گیا۔

تاہم برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ادارے (یو کے ایم ٹی او) کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں ٹریفک اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے تقریباً 70 فیصد کم ہے۔ گزشتہ ہفتے 125 جہاز باہر اور 129 اندر گئے، جو اس سے پچھلے ہفتے سے کم ہیں۔

یو کے ایم ٹی او نے ہفتے کے دوران جہازوں پر 12 حملے رپورٹ کیے، جن میں سے 10 آبنائے ہرمز میں ہوئے۔ ادارے کے مطابق 13 اکتوبر کو راس شیخ مسعود کے قریب ایک کنٹینر جہاز نامعلوم پروجیکٹائل لگنے سے آگ کی لپیٹ میں آیا اور اگلے روز ڈوب گیا، تاہم عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ ادارے نے کہا کہ زیادہ تر متاثرہ جہاز واقعات رپورٹ نہیں کرتے، اس لیے حملوں کی اصل تعداد کا تعین مشکل ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ 20 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل لے جانے والا ایک سپر ٹینکر آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا جس سے زوردار دھماکا اور آگ لگی۔

مزید تفصیل ایکسپریس ٹریبیون پر۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-17-centcom-iran-no-sea-trade-hormuz-traffic-down-70pc?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

دنیا کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں