اسلام آباد: ڈان کے مطابق دفترِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں واضح کیا کہ پاکستان افغان نمائندوں سمیت کسی سے بھی بات چیت سے نہیں بھاگ رہا، تاہم یہ مذاکرات کسی شرط کے بغیر نہیں ہوں گے۔
ترجمان کے بقول پاکستان کا صرف ایک مطالبہ ہے: ایسا قابلِ تصدیق طریقۂ کار جو یقینی بنائے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت 'ایک قدم آگے اور ایک قدم پیچھے' کی پالیسی پر چل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دوست ممالک کی ہر مخلصانہ کوشش کا خیر مقدم کرے گا جو اس کے جائز سکیورٹی خدشات دور کرنے اور خطے میں امن کو فروغ دینے میں مدد دے۔ البتہ روس کی ثالثی سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ ان کے علم میں اس وقت کوئی الگ اور باضابطہ روسی ثالثی اقدام زیرِ غور نہیں۔
رپورٹ کے مطابق ماسکو میں افغانستان کے لیے روسی خصوصی ایلچی ضمیر کابلوف نے اس ماہ کے آغاز میں دونوں ممالک کے درمیان سہولت کاری کی پیشکش دہرائی تھی۔ روس واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ 5 اکتوبر کو ماسکو فارمیٹ مشاورت کے بعد کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونا خود ظاہر کرتا ہے کہ افغان وفد نے دہشت گرد نیٹ ورکس سے متعلق وہ زبان قبول نہیں کی جو گزشتہ برس تک قابلِ قبول تھی۔ ان کے مطابق یہ اس بات کی علامت ہے کہ افغانستان یہ ماننے سے ہچکچا رہا ہے کہ دہشت گردی اس کی سرزمین سے جنم لے رہی ہے۔
ڈان کے مطابق تعلقات معمول پر لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کا یہ مطالبہ ہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان اور دیگر گروہوں کے خلاف کارروائی کی جائے، جبکہ طالبان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ گزشتہ برس قطر اور ترکیہ کی مدد سے جنگ بندی ہوئی تھی، سعودی عرب اور چین نے بھی بات چیت کی میزبانی کی، مگر کوئی دیرپا حل نہیں نکل سکا۔
مزید تفصیل ڈان پر۔
