کراچی: ڈان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اتوار کو کہا کہ اگر اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف لڑنے اور وفاقی حکومت کے ساتھ کسی منصوبے پر بات کرنے کو تیار ہو تو خیبر پختونخوا میں نافذ گورنر راج اور ایمرجنسی ختم ہو سکتی ہے۔
وہ سانحہ کارساز کی 19ویں برسی پر کارساز یادگار پر حاضری کے بعد میڈیا سے بات کر رہے تھے۔ وفاق نے ایک ہفتہ قبل صوبائی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے "دانستہ لاتعلقی" کو جواز بنا کر کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی تھی۔
بلاول نے پی ٹی آئی کی قیادت میں اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ واقعی دہشت گردوں سے لڑنا اور ایمرجنسی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو وفاقی حکومت اور سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ کر مشترکہ پالیسی پر بات کریں۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ لڑنے کو تیار نہیں تو پیپلز پارٹی دہشت گردوں سے لڑنے کو تیار ہے، اور اسی لیے پارٹی نے گورنر راج کی حمایت کی۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے 2021 میں کابل میں طالبان کی واپسی کے بعد اس وقت کی حکومت کے دہشت گردوں کو سوات، ملاکنڈ اور سابق قبائلی علاقوں میں دوبارہ بسانے کے فیصلے کو بھی موجودہ نقصانات کی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک "تاریخی معاشی بحران" سے گزر رہا ہے اور اس سے نکلنے کے لیے دہشت گردی سے لڑنا بھی ضروری ہے۔
بلاول نے کہا کہ گورنر فیصل کریم کنڈی کو پیپلز پارٹی نے نامزد کیا تھا لیکن آئینی طور پر اب وہ وفاق کے نمائندے ہیں۔ اپوزیشن سے "سمجھوتے" کے سوال پر انہوں نے کہا کہ سمجھوتہ اور سیاست ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
مزید تفصیل ڈان پر۔
