گوجرانوالہ: ڈان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہفتے کو ایک بار پھر کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے پر "مجبور" ہوئی، کیونکہ صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون نہیں کیا۔
وزیرِ اعظم یہ بات مسلم لیگ (ن) کے مرحوم رکنِ قومی اسمبلی محمود بشیر ورک کے صاحبزادے راشد بشیر ورک کی رہائش گاہ پر تعزیت کے موقع پر کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ وفد نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کی صورت میں "آخری کوشش" کی تھی۔ ان کے بقول 48 گھنٹے دن رات بات چیت ہوئی اور ایک مسودہ بھی تیار تھا جس کے تحت پی ٹی آئی کو اپنا لانگ مارچ ختم کرنا تھا۔ ڈان کے مطابق 3 اکتوبر کو ہونے والا مذاکرات کا دوسرا دور کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا تھا۔
شہباز شریف نے بتایا کہ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی، جن کا عہدہ اب غیر فعال ہے، اور ان کے پیش رو علی امین گنڈاپور سے کئی ملاقاتیں کیں اور انتظامی امور اور وسائل سے متعلق فیصلے مشاورت سے کرنے کی یقین دہانی کرائی، مگر جواب میں "آئے روز دھمکیاں اور لانگ مارچ" ملے۔ انہوں نے 2014 کے ڈی چوک دھرنے اور نومبر 2024 کے احتجاج کا بھی حوالہ دیا۔
وفاق نے 11 اکتوبر کو صوبائی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے "دانستہ لاتعلقی" کو جواز بنا کر کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا، جس کی پارلیمنٹ نے اس ہفتے اپوزیشن کے احتجاج کے دوران توثیق کر دی۔ پی ٹی آئی کا مؤقف رہا ہے کہ اسے صوبے سے متعلق سکیورٹی فیصلوں سے باہر رکھا جا رہا ہے، جبکہ وفاق اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
مزید تفصیل ڈان پر۔
