جیو نیوز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بائیو میٹرک ڈیٹا کے غلط استعمال سے ڈپلیکیٹ سم جاری کروا کر بینک اکاؤنٹس خالی کرنے والے گروہوں نے دو ارکانِ قومی اسمبلی کو بھی نشانہ بنایا۔
اہم نکات
- ایم این اے فرحان چشتی کے 15 لاکھ اور ایم این اے شہریار مہر کے 20 لاکھ روپے نکالے گئے
- پی ٹی اے نے متعلقہ موبائل کمپنی پر دو الگ کیسز میں 7 کروڑ 78 لاکھ روپے فی کیس جرمانہ کیا
- ایک کیس میں بینک کے اندرونی اہلکار کا کردار بھی سامنے آیا
فون بند، اکاؤنٹ خالی
رپورٹ کے مطابق 12 جنوری کو اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچنے پر فرحان چشتی کا فون بند تھا۔ سروس سینٹر جانے پر انہیں پتہ چلا کہ ان کے نمبر کی ایک ڈپلیکیٹ سم، جو انہوں نے کبھی طلب نہیں کی تھی، کراچی کے علاقے ملیر سے جاری ہو چکی ہے۔
اسی دوران سم استعمال کرنے والے شخص نے ان کے نام پر آن لائن بینکنگ رجسٹر کی، رقم نکالنے کی حد بڑھائی اور 15 لاکھ روپے ایسے اکاؤنٹس میں منتقل کر دیے جو جنوبی پنجاب اور سندھ کی خواتین کے نام پر ان کے علم کے بغیر کھولے گئے تھے۔
فراڈ کیسے ہوتا ہے؟
معاملے کی شکایت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے کی گئی۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ جرائم پیشہ عناصر لیک شدہ ڈیٹا یا ان مقامات سے بڑی تعداد میں بائیو میٹرک حاصل کرتے ہیں جہاں فنگر پرنٹس دینا لازمی نہیں ہوتا، پھر انہیں سافٹ ویئر کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔
پی ٹی اے کا جرمانہ
پی ٹی اے نے کمپنی کا یہ مؤقف مسترد کر دیا کہ ریٹیلر کو کسی تیسرے فریق نے دھوکہ دیا تھا، اور قواعد کے تحت قرار دیا کہ کسی بھی ذریعے سے فروخت ہونے والی سم کی مکمل ذمہ داری آپریٹر پر ہے۔ اتھارٹی نے نگرانی میں ناکامی کی نشاندہی کرتے ہوئے کمپنی پر 7 کروڑ 78 لاکھ روپے جرمانہ کیا۔
بینک کا اندرونی اہلکار
کراچی کے ایک تاجر کے کیس میں 85 لاکھ روپے نکالے گئے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مردان کے ایک بینک برانچ افسر نے سم جاری ہونے سے پہلے ہی ان کا اکاؤنٹ دیکھا تھا اور تقریباً 30 اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی تھی، جن سے مشتبہ طور پر تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کا فراڈ ہوا۔ اس کیس میں بھی پی ٹی اے نے اسی کمپنی پر اتنا ہی جرمانہ عائد کیا۔
رپورٹ کے مطابق ٹیلی کام کمپنی کو دونوں کیسز میں سزا ملی، جبکہ بینکوں کے خلاف کارروائی صرف متاثرین کی رقم واپس کرنے کے حکم تک محدود رہی۔
مکمل رپورٹ جیو نیوز پر۔
