واشنگٹن: ڈان پر شائع اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اے آئی اسسٹنٹ "کلاڈ" بنانے والی امریکی کمپنی اینتھروپک نے جمعے کو تصدیق کی کہ وہ مصنوعی ذہانت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک مسودۂ قانون امریکی ارکانِ کانگریس میں تقسیم کر رہی ہے، کیونکہ اس ٹیکنالوجی کے خطرات پر کوئی وفاقی قانون موجود نہیں۔
مسودے کے مطابق اگر کسی اے آئی ماڈل سے 50 سے زیادہ افراد کی ہلاکت یا شدید زخمی ہونے، یا ایک ارب ڈالر سے زیادہ نقصان کا فوری خطرہ ہو تو وفاقی حکومت اس کا اجرا یا استعمال روک سکے گی، تاہم اس کے لیے جج کی منظوری لازمی ہوگی۔ اس مسودے کی خبر سب سے پہلے پولیٹیکو نے دی تھی۔
کمپنی کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ تجویز کے تحت سب سے طاقتور ماڈلز بنانے والی کمپنیوں کو ان کی جانچ کرنا، نتائج عوام کے سامنے رکھنا، آزادانہ جائزہ کروانا اور مضبوط سکیورٹی نظام برقرار رکھنا ہوگا۔ مجوزہ قانون کیلیفورنیا جیسی ریاستوں کے بعض قوانین پر بھی فوقیت رکھے گا۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے دور میں امریکی اے آئی پالیسی زیادہ تر رضاکارانہ صنعتی وعدوں اور ایگزیکٹو آرڈرز پر چل رہی ہے، جبکہ کانگریس اگلے ماہ کے وسط مدتی انتخابات تک اجلاس میں نہیں۔ حال ہی میں ڈویلپرز کے کنٹرول سے نکل جانے والے اے آئی ایجنٹس کے واقعات کے بعد سکیورٹی کا معاملہ نمایاں ہوا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ فار لا اینڈ اے آئی کے چارلی بلک نے تجویز کو "کافی معقول" قرار دیا، تاہم ان کے بقول یہ ایوانِ نمائندگان میں پیش کیے گئے حریف "فرنٹیئر ایکٹ" کے مقابلے میں کمزور ہے۔
مزید تفصیل ڈان پر۔
