امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کا دروازہ ایک بار پھر بند ہوتا دکھائی دے رہا ہے، اور ایسے میں اسلام آباد ایک بار پھر سفارتی پل بننے کی کوشش میں ہے۔ جیو نیوز نے خبر رساں ادارے روئٹرز کے حوالے سے بتایا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر منگل کو تہران کا دورہ کریں گے۔ روئٹرز نے یہ اطلاع ایک پاکستانی عہدیدار اور ایرانی میڈیا کے حوالے سے دی ہے۔
گرمیوں کی ملاقاتوں کا تسلسل
یہ دورہ اس سلسلے کی کڑی ہے جو موسمِ گرما میں شروع ہوا تھا، جب فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی قیادت سے بات چیت کی تھی۔ ان ملاقاتوں میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ کو جلد ختم کرنے کے اقدامات پر توجہ دی گئی تھی۔
پاکستان اس سال امریکا اور ایران کے درمیان اُس جنگ کو ختم کرانے کی کوششوں میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جو فروری میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی تھی۔
مذاکرات کہاں اٹکے ہوئے ہیں؟
جیو نیوز کے مطابق دونوں فریق مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی شرائط پر متفق نہیں ہو سکے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو سات دن کے اندر کھولنے کی تہران کی پیشکش اب بھی برقرار ہے، لیکن پیش رفت کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ واشنگٹن ایران کی شرائط کا کیا جواب دیتا ہے۔
ایران چاہتا ہے کہ اس کی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم ہو، تیل کی برآمدات پر پابندیاں نرم کی جائیں اور خطے کے تمام محاذوں پر لڑائی بند ہو۔ دوسری طرف واشنگٹن کا اصرار ہے کہ سب سے پہلے ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ طے کیا جائے۔
"امن ایک ملاقات میں نہیں آتا"
اس دورے سے ایک دن پہلے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دوحہ میں گلوبل سکیورٹی فورم سے خطاب میں کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن کے لیے صبر، اعتماد اور مسلسل کوشش درکار ہے، اور پائیدار امن کسی ایک ملاقات میں حاصل نہیں ہو سکتا۔ ان کے بقول پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، اور ایسے لمحات بھی آئے جب کشیدگی بہت بڑھ گئی، مگر اسلام آباد نے ہمت نہیں ہاری۔
محسن نقوی نے قطر کی ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ اسلام آباد اور دوحہ نے مل کر خطے میں مزید کشیدگی روکنے کے لیے کام کیا ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب خطہ پہلے ہی ایک اور آگ کی لپیٹ میں ہے: یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فورسز حوثی باغیوں سے لڑ رہی ہیں، جو سعودی عرب کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اب نظریں اس پر ہیں کہ کیا تہران میں ہونے والی بات چیت تعطل کا شکار سفارت کاری میں نئی جان ڈال سکے گی۔
مزید تفصیل کے لیے جیو نیوز کی رپورٹ دیکھیں۔
