مواد پر جائیں

ڈار کا عراقچی کو فون، ایران کی ہرمز پیشکش برقرار

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے اتوار کو ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری جاری رکھنے پر زور دیا۔

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

اسلام آباد: ڈان کے مطابق نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور امریکا-ایران تنازع کے پس منظر میں خطے کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارت کاری کی اہمیت اجاگر کی۔

اہم نکات

  • دونوں وزرا نے بغداد میں جاری او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس پر بھی بات کی
  • عراقچی کے مطابق آبنائے ہرمز سات دن میں کھولنے کی ایرانی تجویز اب بھی میز پر ہے
  • ایران کے نئے وزیرِ دفاع نے امریکی حملے کی صورت میں بھاری نقصان کی دھمکی دی

ڈار-عراقچی رابطہ

دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے بدلتی علاقائی صورتحال اور بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس پر تبادلۂ خیال کیا اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

ایران کی شرائط

عراقچی نے او آئی سی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ایران امریکی دباؤ، دھمکیوں یا ڈرانے دھمکانے کو قبول نہیں کرے گا، تاہم باہمی احترام اور قابلِ اعتماد ضمانتوں کی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ امریکا نے ایرانی تجویز پر اپنے تبصرے بھیجے ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایران کی شرائط میں اس کی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنا، تیل کی برآمد پر پابندیاں ہٹانا اور خطے کے تمام محاذوں پر جنگ بندی شامل ہیں۔ عراقچی کے مطابق شرائط مان لی جائیں تو آبنائے چھ دن میں کھل سکتی ہے اور اس کے اگلے روز مذاکرات بحال ہو سکتے ہیں۔

نئے وزیرِ دفاع کی وارننگ

ڈان کے مطابق ایران کے نئے وزیرِ دفاع مہرداد اخلاقی نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کے فوراً بعد خبردار کیا کہ امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو اسے اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

مزید تفصیل ڈان پر۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-19-dar-araghchi-call-iran-hormuz-offer?lang=ur