منگل کی صبح پمپ پر گاڑی روکنے والوں کے لیے کچھ ریلیف کی خبر ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وفاقی حکومت نے پیر کو 20 اکتوبر کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 5.16 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7.69 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق منگل کے روز پیٹرول 381.14 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 389.27 روپے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
مسلسل دوسری کمی
یہ کمی ایک ایسے وقت آئی ہے جب چند روز پہلے ہی حکومت نے 17 سے 19 اکتوبر کے لیے پیٹرول 3.93 روپے فی لیٹر سستا کیا تھا، تاہم اس وقت ڈیزل کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔ اس بار ڈیزل استعمال کرنے والے ٹرانسپورٹرز اور کسانوں کو بھی کچھ فائدہ پہنچا ہے، کیونکہ ڈیزل میں کمی پیٹرول سے زیادہ ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں اب ہفتہ وار نہیں بلکہ روزانہ کی بنیاد پر طے ہوتی ہیں۔ حکومت نے 17 جولائی کو یہ نیا نظام متعارف کرایا تھا، جب امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو غیر مستحکم کر دیا تھا اور سپلائی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے تھے۔
عام صارف کے لیے پہلے سے جاری ریلیف
اخبار کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو موٹر سائیکل، تین پہیوں والے رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت کی خصوصی اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت اندازاً ایک کروڑ 18 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔
دو اور تین پہیوں والی سواریوں کے مالکان کو ماہانہ 20 لیٹر پر رعایت ملے گی، یعنی زیادہ سے زیادہ دو ہزار روپے ماہانہ، جبکہ 800 سی سی تک کی تقریباً دس لاکھ گاڑیوں کے مالکان کو 30 لیٹر پر زیادہ سے زیادہ تین ہزار روپے کا فائدہ ہوگا۔
اسی دوران 17 ستمبر سے ایندھن کی بچت کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات بھی نافذ ہیں، جن کے تحت دکانیں اور بازار رات 9 بجے، شادی ہال رات 10 بجے اور ریستوران رات 11 بجے بند ہو جاتے ہیں، البتہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں۔
عالمی منڈی کا دباؤ برقرار
قیمتوں میں یہ کمی عالمی منڈی کی بے یقینی کے باوجود آئی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پیر کو برینٹ خام تیل 17 سینٹ اضافے سے 110.03 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جس کی وجہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے یمنی فوجی تربیتی کیمپ اور سعودی توانائی، ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات پر نئے حملے بتائی گئی۔
پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے آبنائے ہرمز یا بحیرۂ احمر میں کوئی بھی رکاوٹ فوراً ملک کے اندر ایندھن کی قیمتوں پر اثر ڈالتی ہے۔ روزانہ نرخوں کے نظام میں اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کو آنے والے دنوں میں بھی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
مزید تفصیل کے لیے ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ دیکھیں۔
