وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر ردوبدل کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں ایک روپے 20 پیسے فی لیٹر اضافہ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 17 پیسے فی لیٹر کمی کر دی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق جمعرات 15 اکتوبر سے ہو گیا ہے۔
وزارت توانائی کے پٹرولیم ڈویژن کی پریس ریلیز کے مطابق پٹرول کی قیمت 392 روپے 66 پیسے سے بڑھ کر 393 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 396 روپے 82 پیسے سے کم ہو کر 396 روپے 65 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ اوگرا کی قیمتوں کی شیٹ بھی انہی نرخوں کی تصدیق کرتی ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ تبدیلی عالمی منڈی میں ہونے والی پیش رفت، جس میں پلیٹس نرخوں، پریمیم اور دیگر اخراجات میں تبدیلی شامل ہے، کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ اس سے ایک روز قبل منگل کو حکومت نے پٹرول دو روپے 71 پیسے اور ڈیزل تین پیسے فی لیٹر سستا کیا تھا۔
دی نیوز کے مطابق وفاقی کابینہ سے منظور شدہ نئے نظام کے تحت اوگرا اب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں روزانہ جاری کرتی ہے، جو گزشتہ سات دن کی عالمی قیمتوں کے اوسط کی بنیاد پر طے ہوتی ہیں۔ وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق اس کا مقصد شفافیت بڑھانا اور عالمی منڈی میں قیمتوں کی تبدیلی کا اثر صارفین تک جلد پہنچانا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جمعہ کو جاری ہونے والی قیمتیں ہفتہ اور اتوار کو بھی برقرار رہیں گی۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے راستے توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں غیر مستحکم ہیں۔ روزانہ نظام سے پہلے حکومت ہفتہ وار بنیاد پر قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی، اور اس سے قبل یہ جائزہ پندرہ روزہ بنیاد پر ہوتا تھا۔
