مواد پر جائیں

پاکستان: آخری سہ ماہی میں شرح نمو 2 فیصد

پاکستان کی معاشی شرح نمو مالی سال 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی (اپریل تا جون) میں صنعتی شعبے کے 4.7 فیصد سکڑنے کے باعث کم ہو کر 2 فیصد رہ گئی، جبکہ حکومت نے پانچ برسوں کی درآمدات میں مجموعی طور پر 14.8 ارب ڈالر کا اضافہ بھی تسلیم کر لیا۔

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

معیشت کی گاڑی پچھلے مالی سال کے آخری مہینوں میں دھیمی پڑ گئی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق قومی حسابات کمیٹی (این اے سی) نے پیر کو منظوری دی کہ مالی سال 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی، یعنی اپریل سے جون کے دوران، پاکستان کی معاشی شرح نمو صرف 2 فیصد رہی۔ اس کی بڑی وجہ صنعتی شعبے میں 4.7 فیصد کمی بتائی گئی ہے۔

پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کے سرکاری بیان کے مطابق گزشتہ برس اسی سہ ماہی میں 6.1 فیصد کی بلند شرح نمو کی وجہ سے اس بار نمو معمولی رہی۔ سست آخری سہ ماہی کے باعث حکومت نے پچھلے مالی سال کی سالانہ شرح نمو بھی معمولی کمی کے ساتھ 3.65 فیصد کر دی ہے۔

صنعت سکڑی، زراعت سنبھلی

اخبار کے مطابق زراعت اس سہ ماہی میں 3.7 فیصد بڑھی، جبکہ گزشتہ برس اسی عرصے میں یہ تقریباً جمود کا شکار تھی۔ اہم فصلوں میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ گندم، چاول اور گنے کی پیداوار رہی۔

اس کے برعکس صنعت 4.7 فیصد سکڑ گئی۔ حکومت اسے گزشتہ برس کی بلند بنیاد کا اثر قرار دیتی ہے، لیکن اخبار کے مطابق طویل مالیاتی سختی نے باضابطہ شعبے کو نقصان پہنچایا ہے، اور علاقائی کشیدگی کے باعث ایندھن مہنگا ہونے سے معیشت میں طلب بھی کم ہوئی ہے۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار (ایل ایس ایم) صرف 0.41 فیصد بڑھی، جبکہ بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کا شعبہ 33.2 فیصد سکڑ گیا۔ کان کنی 8.9 فیصد اور تعمیرات 3.52 فیصد بڑھیں، جبکہ خدمات کے شعبے میں 3.62 فیصد اضافہ ہوا۔

درآمدات 14.8 ارب ڈالر زیادہ نکلیں

اسی اجلاس میں این اے سی نے مالی سال 2021 سے 2025 تک کے درآمدی اعداد و شمار پر نظرِ ثانی کی بھی منظوری دی، جس سے پانچ برسوں کی درآمدات میں مجموعی طور پر 14.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ پی بی ایس کے مطابق یہ فرق اس لیے آیا کہ درآمدی ڈیٹا کی تیاری پرال (PRAL) سے پاکستان سنگل ونڈو کو منتقل ہوئی، جس کا ڈیٹا زیادہ جامع تھا۔

نظرِ ثانی شدہ اعداد کے مطابق مالی سال 2024-25 میں درآمدات دراصل 64.5 ارب ڈالر تھیں، جو پہلے بتائے گئے اعداد سے 6.1 ارب ڈالر زیادہ ہیں، جبکہ 2023-24 کی درآمدات 5.1 ارب ڈالر اضافے کے ساتھ 59.9 ارب ڈالر ہو گئیں۔ ایکسپریس ٹریبیون نے گزشتہ سال 11 ارب ڈالر کے تجارتی ڈیٹا کے فرق کی خبر دی تھی، جس کے بعد حکومت اور آئی ایم ایف نے اعداد و شمار کی جانچ شروع کی۔

اس نظرِ ثانی سے معیشت کا حجم بھی بدل گیا: مالی سال 2023-24 میں 227 ارب روپے کے اضافے سے یہ 105.5 ٹریلین روپے اور 2024-25 میں 137 ارب روپے کے اضافے سے 114.2 ٹریلین روپے ہو گیا۔ پی بی ایس کے مطابق فی کس آمدنی پر بھی اس کا معمولی مثبت اثر پڑا ہے۔

مزید تفصیل کے لیے ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ دیکھیں۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-20-pakistan-q4-gdp-growth-2-percent-import-revision?lang=ur

مزید پڑھیں