چند روز پہلے تک بھارت کے سر پر 100 فیصد تک کے امریکی ٹیرف کی تلوار لٹک رہی تھی، اور اب امریکی وزیرِ خارجہ خود نئی دہلی سے تجارتی معاہدہ کرنے پہنچ رہے ہیں۔ جیو نیوز نے روئٹرز کے حوالے سے بتایا ہے کہ مارکو روبیو منگل کو مغربی بھارت میں ممبئی اور جام نگر کے دو روزہ دورے پر روانہ ہوں گے۔
اس دورے میں وہ بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سمیت حکومتی اور کاروباری رہنماؤں سے ملیں گے۔ ان میں ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی بھی شامل ہیں، جن کی کمپنی جام نگر میں دنیا کا سب سے بڑا ریفائنری کمپلیکس چلاتی ہے۔
معاہدہ "تقریباً مکمل"
روبیو اور دیگر امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جامع تجارتی معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے، جس سے یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ اس پر اسی دورے میں دستخط ہو جائیں۔
راستے کی ایک بڑی رکاوٹ صدر ٹرمپ نے گزشتہ جمعے کو ہٹا دی، جب انہوں نے وہ ممکنہ ٹیرف معطل کر دیے جو بھارت کو روسی خام تیل کی بڑے پیمانے پر خریداری کی سزا کے طور پر لگنے تھے۔ ستمبر میں منظور ہونے والے قانون کے تحت امریکی انتظامیہ روسی تیل کے پانچ بڑے خریداروں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگا سکتی ہے، اور اس فہرست میں چین کے بعد بھارت دوسرے نمبر پر ہے۔ اس فیصلے پر ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز دونوں ناراض ہیں، جو ماسکو پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔
"جغرافیہ ایک حقیقت ہے"
روبیو نے تسلیم کیا کہ تجارتی معاہدہ مکمل کرنے کی کوشش بھی ٹیرف معطل کرنے کی ایک وجہ تھی۔ ان کے بقول بھارت نے رضاکارانہ طور پر توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کیا ہے، اگرچہ وہ اب بھی روزانہ لاکھوں بیرل روسی تیل خریدتا ہے، کیونکہ ایک دن میں راستہ بدلنا آسان نہیں۔ "وہ امریکا کے اہم اتحادی اور شراکت دار بھی ہیں،" انہوں نے کہا۔
پیر کو صحافیوں کے سوال پر روبیو کا کہنا تھا کہ ہر ملک کو کئی پیچیدہ عوامل دیکھنے پڑتے ہیں۔ "جغرافیہ ایک حقیقت ہے، بعض ملکوں کے لیے متبادل ذرائع سے توانائی حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔" انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ اب 60 دن کے جائزے میں یہ طے کرے گی کہ کون سے نئے ٹیرف، اگر کوئی، نافذ کیے جائیں۔
جیو نیوز کے مطابق صورتحال اس لیے بھی مبہم ہے کہ امریکا نے خود گزشتہ ہفتے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایندھن سستا کرنے کے لیے روس سے ڈیزل درآمد کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ بھارت اپنی خام تیل کی 85 فیصد سے زیادہ ضروریات درآمدات سے پوری کرتا ہے۔ روبیو ازبکستان کے شہر سمرقند سے ممبئی پہنچیں گے، جہاں انہوں نے وسطی ایشیا کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔
مزید تفصیل کے لیے جیو نیوز کی رپورٹ دیکھیں۔
