جیو نیوز کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے نئی دہلی میں، جہاں وہ تین روزہ دورے پر ہیں، ایک بھارتی میڈیا ادارے کو انٹرویو میں پاکستان کے ساتھ امریکا کے کئی دہائیوں پرانے تعلقات کا کھل کر دفاع کیا۔ یہ رواں سال ان کا بھارت کا دوسرا سرکاری دورہ ہے۔
'جغرافیہ رابطے کا تقاضا کرتا ہے'
پاکستان کے بارے میں بطور سینیٹر اور اب بطور وزیرِ خارجہ ان کے خیالات سے متعلق سوال پر روبیو نے کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی چلانے کے لیے ان ممالک سے بھی تعلقات رکھنے پڑتے ہیں جن سے اختلافات ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ جغرافیائی لحاظ سے امریکا کو پاکستان سے رابطے میں رہنا ہے، بالکل اسی طرح جیسے بھارتی حکومت ایران کی قیادت سے تعلقات رکھتی اور ملاقاتیں کرتی ہے۔
روبیو نے یہ دلیل بھی دی کہ پاکستان سے بات چیت کا راستہ کھلا رہنا مثبت ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے امریکا ان معاملات کی حوصلہ شکنی میں مدد کر سکتا ہے جن پر بھارت کو تشویش ہے۔ انہوں نے دہرایا کہ واشنگٹن دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی اور اس کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف ہے۔
آبنائے ہرمز اور ایران
ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش سے متعلق سوال پر روبیو نے کہا کہ تہران کے ساتھ معاہدہ کرنا 'بہت مشکل' ہے۔ تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ آبنائے سے تیل اور توانائی کی ترسیل فروری میں مشرقِ وسطیٰ کا تنازع شروع ہونے سے پہلے کی سطح کے 80 سے 100 فیصد تک بحال ہو چکی ہے۔
