پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی اتحاد کاغذ سے ایک قدم اور آگے بڑھ گیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے خبر رساں ادارے روئٹرز کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ توثیق کے لیے اپنی پارلیمان میں جمع کرا دیا ہے۔ یہ بات منگل کو تین پارلیمانی ذرائع نے بتائی۔
تینوں ممالک نے اگست میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب سعودی عرب کو حوثی حملوں کا سامنا ہے۔
معاہدے میں کیا لکھا ہے؟
روئٹرز کے دیکھے گئے متن کے مطابق معاہدے کی پہلی شق کہتی ہے کہ فریقین ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کو لاحق خطرات ختم کرنے کے لیے "تمام ضروری ذرائع" استعمال کریں گے۔
دوسری شق کے مطابق اگر کسی فریق پر کسی ملک یا ممالک کے گروہ کی جانب سے مسلح حملہ یا فوجی جارحیت ہو تو باقی فریق فوری طور پر باہمی مدد کے تمام دستیاب ذرائع سے اس کی معاونت کریں گے۔ یہ شق نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہ ہے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتی ہے۔ تاہم مدد کی نوعیت اور دائرہ کار کا فیصلہ ضرورت کے معروضی جائزے کے بعد کیا جائے گا۔
معاہدے میں دفاعی صنعت، انٹیلی جنس کے تبادلے، لاجسٹک معاونت اور دہشت گردی کے خلاف قریبی تعاون کا بھی ذکر ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں ریاض میں اتحاد کے ہنگامی اجلاس میں تینوں ممالک نے سعودی عرب میں فوجی دستوں اور صلاحیتوں کی "تیز رفتار تعیناتی" پر اتفاق کیا تھا۔
آگے کیا ہوگا؟
ذرائع کے مطابق ترک پارلیمان کے اسپیکر نعمان کورتلمش کرغزستان کے دورے سے واپسی پر معاہدہ خارجہ امور کمیشن کو بھیجیں گے، اور ایک ذریعے کے بقول کمیشن جمعہ تک اس پر بحث کر سکتا ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر برہان الدین دوران نے ایکس پر لکھا کہ اس شراکت کا مقصد "اجتماعی ڈیٹرنس کو مضبوط کرنا" اور خطے میں سلامتی و استحکام کا تحفظ ہے۔
ترکیہ کا کردار محدود
ایک ترک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ترکیہ کا حصہ فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس کے تبادلے اور ہتھیاروں کے نظام تک محدود رہنے کی توقع ہے۔ وزیرِ خارجہ حاکان فیدان نے کہا کہ یہ "جارحانہ معاہدہ" نہیں اور ترکیہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر حملوں کے لیے فوج نہیں بھیجے گا۔ ترک آئین کے تحت بیرونِ ملک فوج بھیجنے کے لیے پارلیمان سے الگ منظوری درکار ہوتی ہے۔
