وار مانیٹر کے مطابق خیبر پختونخوا کے دو اضلاع، شمالی وزیرستان اور بنوں، میں بدھ کے روز الگ الگ واقعات میں چار مشتبہ شدت پسند مارے گئے ہیں۔ دونوں واقعات کی تفصیلات مختلف ذرائع سے سامنے آئی ہیں اور کسی کی بھی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔
میر علی: ایک گھر پر ڈرون حملہ
وار مانیٹر نے انسرجنٹ زون نامی پلیٹ فارم کے حوالے سے بتایا کہ شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے علاقے موسکی میں ایک گھر کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے تین ارکان کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی شناخت رومان عرف سیف اللہ داوڑ کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ باقی دو افراد کے نام سامنے نہیں آئے۔ ڈرون کس نے استعمال کیا، اس بارے میں رپورٹ میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
بنوں: غورہ بکاخیل میں انٹیلی جنس آپریشن
دوسرا واقعہ بنوں کے علاقے غورہ بکاخیل میں پیش آیا۔ وار مانیٹر کے مطابق ریاست سے وابستہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز نے وہاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی، جس میں نور جمال نامی ایک مشتبہ شدت پسند مارا گیا۔
تصدیق باقی
دونوں کارروائیوں کے حالات، ہلاک ہونے والوں کی شناخت اور تعداد کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، اور فوری طور پر مزید تفصیلات دستیاب نہیں تھیں۔ شمالی وزیرستان اور بنوں حالیہ مہینوں میں صوبے میں عسکریت پسندی کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شمار ہوتے رہے ہیں۔
