مواد پر جائیں
زیرِ پیش رفت

پشاور کے حمید تھانے پر کواڈ کاپٹر حملے کا ٹی ٹی پی دعویٰ

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے بدھ کو ایک ویڈیو جاری کر کے ایف آر پشاور کے حمید پولیس اسٹیشن پر کواڈ کاپٹر سے حملے کا دعویٰ کیا ہے؛ ویڈیو اور کسی نقصان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

وار مانیٹر کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے بدھ کے روز ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں فرنٹیئر ریجن (ایف آر) پشاور کے حمید پولیس اسٹیشن کو کواڈ کاپٹر کے ذریعے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ ویڈیو کب اور کہاں بنی، اور حملے سے کوئی جانی یا مالی نقصان ہوا یا نہیں، اس کی آزادانہ تصدیق اب تک نہیں ہو سکی، اور پولیس یا حکومت کی جانب سے بھی کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

چھوٹے ڈرون، بڑا چیلنج

پولیس تنصیبات پر چھوٹے ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز سے حملوں کی خبریں حالیہ ہفتوں میں بار بار سامنے آئی ہیں۔ وار مانیٹر کی اسی روز جاری ہونے والی خصوصی سیکیورٹی رپورٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ 3 اکتوبر کو ڈیرہ غازی خان میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی سرحد کے قریب جھنگی اور لکھانی پولیس چوکیوں پر ڈرون حملے ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ضلعی پولیس افسر صادق بلوچ نے بتایا تھا کہ ان حملوں میں دھماکہ خیز مواد گرایا گیا اور ایک اہلکار معمولی زخمی ہوا، جبکہ پولیس نے ان کا الزام ٹی ٹی پی سے وابستہ شدت پسندوں پر لگایا تھا۔

رپورٹ کا تجزیہ یہ ہے کہ بازار میں عام دستیاب ڈرون ٹیکنالوجی کا مسلح گروہوں کے ہاتھ لگنا روایتی پولیسنگ کے لیے نیا امتحان ہے، اس لیے تھانوں اور چوکیوں کے حفاظتی انتظامات کو بدلتے خطرے کے مطابق ڈھالنے اور اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ خطرے کی شدت کا اندازہ الگ تھلگ دعوؤں کے بجائے آزادانہ طور پر دستاویزی واقعات سے لگایا جانا چاہیے۔

اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟

وار مانیٹر نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پکس) کے حوالے سے بتایا کہ 9 سے 15 اکتوبر کے دوران ملک بھر میں 34 عسکری حملے ریکارڈ ہوئے، جبکہ اس سے پچھلے ہفتے یہ تعداد 46 تھی، یعنی تقریباً 26 فیصد کمی۔ پکس کے 22 ستمبر سے 21 اکتوبر تک کے 30 روزہ اعداد و شمار میں سیکیورٹی سے متعلق 228 واقعات، 343 اموات، 120 زخمی اور اغوا سے متاثرہ 109 افراد درج ہیں؛ ان میں عسکری حملوں کے ساتھ سیکیورٹی آپریشن بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کی کمی کو سیکیورٹی صورتحال میں پائیدار بہتری نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ حملوں کی تعداد گھٹنے کے ساتھ ساتھ نئے طریقے اور نئے علاقے بھی سامنے آ رہے ہیں، جن میں بلوچستان میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں اور پاک افغان کشیدگی نمایاں ہیں۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-21-wm-ttp-quadcopter-claim-hameed-police-station-peshawar?lang=ur

مزید پڑھیں