وار مانیٹر کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے علاقے کالا خیل میں ایک سڑک کے کنارے سے چھ نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
اہم نکات
- لاشوں پر گولیوں کے زخم ہیں، شناخت اور ذمہ داروں کا تعین نہیں ہو سکا
- ٹانک میں وانا روڈ پر ایک مبینہ طالبان جنگجو کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا
- کالعدم بی آر اے نے اپنے 15 اور بی ایل اے نے 3 ارکان کی ہلاکت کا اعلان کیا
باڑہ میں کیا ملا؟
رپورٹ نے 'انسرجنٹ زون' کے حوالے سے بتایا کہ تمام افراد گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوئے۔ مرنے والے کون تھے، انہیں کب اور کس نے قتل کیا، یہ سب ابھی واضح نہیں۔
ٹانک میں مبینہ جنگجو قتل
ضلع ٹانک میں 18 اکتوبر کی رات وانا روڈ پر نامعلوم افراد نے ذاکر کوچی عرف تیمور کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ مقامی اطلاعات میں انہیں طالبان جنگجو بتایا گیا اور الزام لگایا گیا کہ وہ پنیالہ تھانے کے ایس ایچ او ممتاز سمیت چار پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث تھے۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
زیارت میں مبینہ ڈرون حملہ
ایک الگ رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے ضلع زیارت میں سکیورٹی فورسز کے مبینہ ڈرون حملے میں مہربان خان نامی شخص مارا گیا۔ اس واقعے کے حالات کی بھی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔
بی آر اے اور بی ایل اے کے اعلانات
کالعدم بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) نے ایک پوسٹر جاری کیا جس میں 26 ستمبر سے 13 اکتوبر کے درمیان اپنے 15 ارکان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔ گروپ کے مطابق یہ سب بگٹی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، تاہم ان کی ہلاکت کے مقامات اور حالات نہیں بتائے گئے۔
اسی روز کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے بھی ایک بیان میں اپنے تین ارکان کی ہلاکت کا اعلان کیا اور ان کی شناخت نسیم عرف گروک، ہارون بزدار عرف مبارک اور نواز عرف استاد گجیان کے ناموں سے کی۔ بیان میں تاریخ، مقام یا حالات کی تفصیل نہیں دی گئی۔
وار مانیٹر کے مطابق ان تمام واقعات اور ہلاکتوں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق باقی ہے۔
اصل رپورٹس وار مانیٹر: باڑہ اور ٹانک، وار مانیٹر: بی ایل اے کا بیان اور وار مانیٹر کی ایکس پوسٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
