یورپ میں یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل جرمنی ایک بار پھر جاسوسی کے سائے میں ہے۔ بی بی سی کے مطابق جرمن حکام نے ایک یوکرینی شہری کو روس کے لیے جاسوسی کے شبہے میں گرفتار کیا ہے، جس کے بعد چانسلر فریڈرک مرز نے خبردار کیا کہ ملک 'شدید' جاسوسی سرگرمیوں کا ہدف ہے۔
ملزم پر کیا الزام ہے؟
جرمنی کے وفاقی پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے جمعرات کو بتایا کہ جرمن رازداری قانون کے تحت 'ودیم وائی' کے نام سے شناخت کیا گیا ملزم کم از کم جولائی 2025 سے ایک درمیانی شخص کے ذریعے روسی انٹیلی جنس سروس سے رابطے میں تھا۔ استغاثہ کے مطابق اس نے بکتر بند گاڑیوں، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کی تیاری سے متعلق معلومات جمع کیں۔ ملزم کو جمعہ کو تفتیشی جج کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
مرز: 'خود کو دھوکا نہ دیں'
مونٹی نیگرو میں ایک کانفرنس کے موقع پر مرز نے اس گرفتاری کو 'کامیابی' قرار دیا، لیکن ساتھ ہی کہا کہ جرمنی میں روسی انٹیلی جنس کی سرگرمیاں مسلسل بلند سطح پر ہیں اور آنے والے مہینوں اور برسوں میں ایسے مزید کیس سامنے آنے کا امکان ہے۔
گرفتاریوں کا سلسلہ
بی بی سی کے مطابق رواں سال جرمنی میں روس اور دیگر غیر ملکی طاقتوں کے لیے کام کرنے کے الزام میں کئی افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔ جنوری میں برلن میں ایک خاتون کو روسی سفارت خانے کے ایک انٹیلی جنس افسر کے لیے معلومات جمع کرنے کے شبہے میں حراست میں لیا گیا۔ اسی ماہ جرمن خفیہ ادارے بی این ڈی کے سابق سربراہ آگسٹ ہیننگ کو بھی جاسوسی اور غداری کے شبہے میں گرفتار کیا گیا، تاہم تفتیش کاروں نے یہ نہیں بتایا کہ کون سی غیر ملکی طاقتیں ملوث تھیں۔
ستمبر میں جرمنی نے روس پر لائپزگ/ہالے ایئرپورٹ کی جانب دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون بھیجنے کا الزام لگایا تھا، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جرمنی پر روس کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے شواہد گھڑنے کا الزام عائد کیا تھا۔
