ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ اس نے خلیج فارس میں تیل لے جانے والے چار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جو اس کے بقول ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل منتقل کر رہے تھے۔ آئی آر جی سی کی بحریہ کے بیان کے مطابق "نشانہ بنائے گئے جہازوں پر آگ اب بھی بھڑک رہی ہے۔"
"غیر مجاز راستوں" کا الزام
بیان میں کہا گیا کہ چاروں جہازوں کو شمالی خلیج فارس میں ٹریک کرنے کے بعد بیک وقت نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ "غیر مجاز راستوں" پر چل رہے تھے۔ پاسداران کے مطابق آبنائے ہرمز کے مغرب میں مزید تین جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے۔ ایران نے امریکا پر الزام لگایا کہ وہ جہازوں کو بارودی سرنگوں والے سمندری راستے سے گزرنے پر اکسا رہا ہے، جس سے سمندری حادثات بڑھ رہے ہیں۔
امریکی اڈوں کو انتباہ
آئی آر جی سی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے یہی روش جاری رکھی تو ایران کے ردعمل کا دائرہ خطے میں امریکی اڈوں تک پھیل سکتا ہے۔
ٹرمپ: "ہم مذاکرات نہیں کر رہے"
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ واشنگٹن ایران سے مذاکرات نہیں کر رہا اور "جلد ہی کچھ نہ کچھ ہو گا۔" جنوبی کیرولائنا میں ریلی سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ امریکا ابھی جنگ ختم کر سکتا ہے مگر وہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ نتیجہ دیرپا ہو۔
اخبار نے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا ہے جس کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں، تاہم رپورٹ کے مطابق یہ طے نہیں کہ صدر ٹرمپ ان کی منظوری دیں گے۔ وائٹ ہاؤس نے ایسے فوجی منصوبوں پر تبصرے سے انکار کیا۔
پاکستان کا تعلق
یہ کشیدگی پاکستان کے لیے براہ راست اہم ہے، کیونکہ خلیج سے تیل اور ایل این جی کی ترسیل ملکی توانائی کی ضروریات سے جڑی ہے، اور اخبار کے مطابق پاکستان تنازع ختم کرانے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ جہازوں پر حملوں کے ایرانی دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
