ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق دفتر خارجہ نے بتایا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین نے جمعرات کو اسلام آباد میں دوطرفہ انسداد دہشت گردی مذاکرات کے دسویں دور میں دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ بات چیت کا مرکز پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور آن لائن انتہا پسندی رہا۔
کون کون شریک ہوا؟
دفتر خارجہ کے ایکس پر جاری بیان کے مطابق پاکستانی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل انسداد دہشت گردی ڈاکٹر فریحہ بگٹی نے کی، جبکہ یورپی وفد کی سربراہی یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کی خصوصی ایلچی برائے انسداد دہشت گردی اینا اسٹرزاسکا نے کی۔
پاکستان میں حملوں کی مذمت
یورپی وفد نے پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے متاثرین سے اظہار یکجہتی کیا اور دہشت گردی کے خلاف اسلام آباد کی کوششوں کا اعتراف کیا۔ دونوں فریقوں نے افغانستان کی صورتحال کے سیکیورٹی مضمرات پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔
اقوام متحدہ سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک
فریقین نے اقوام متحدہ سمیت کثیرالجہتی فورمز پر مربوط حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا۔ مذاکرات میں دہشت گرد گروہوں کی جانب سے سائبر اسپیس، معلومات اور توانائی کے وسائل کے استحصال جیسے ابھرتے خطرات پر بھی غور ہوا، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بڑھتی انتہا پسندی سے نمٹنے کے تجربات کا تبادلہ کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں فریقوں نے مستقبل کے تعاون کی ترجیحات طے کیں اور باقاعدہ رابطہ برقرار رکھنے کا عزم دہرایا۔ مذاکرات کا اگلا دور آئندہ سال برسلز میں ہوگا۔
