اسلام آباد: ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریکِ انصاف دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں سیکیورٹی اداروں کی حمایت پر آمادہ ہو جائے تو حکومت خیبر پختونخوا میں عبوری انتظام ختم کرنے پر غور کر سکتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب ایک روز قبل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود صوبے میں دو ماہ کے لیے ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق صدارتی اعلانات کی توثیق کی دو قراردادیں منظور کی تھیں۔ ایمرجنسی اور گورنر راج 11 اکتوبر کو اس وقت نافذ کیا گیا تھا جب حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ناکام ہوئے اور 4 اکتوبر کو پی ٹی آئی کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع ہوا۔
ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں ثناءاللہ نے کہا کہ اپوزیشن سے حکومت کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ وہ پاکستان، اس کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کو انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے اور وفاق و صوبے کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔
مشیرِ وزیرِ اعظم نے دہشت گردی کی حالیہ لہر کو مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ (معرکۂ حق) میں بھارت کی شکست سے جوڑا اور الزام لگایا کہ بھارت افغان طالبان کو پراکسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اسرائیل افغانستان میں دہشت گردوں کو ڈرون چلانے کی تکنیکی تربیت دے رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ گفتگو قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ملاقاتوں کے بعد ہونے والی نئی سیاسی رابطہ کاری کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ ثناءاللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات کا فیصلہ عدالتی عمل کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔
مزید تفصیل ایکسپریس ٹریبیون پر۔
