بی بی سی کے مطابق انٹرنیٹ کے ایک بڑے حصے کی بنیاد سمجھی جانے والی پروگرامنگ زبان پی ایچ پی میں ایسی سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک کسی کی نظر میں نہیں آئیں۔ ان کی نشاندہی مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہوئی اور بدھ کو انکشاف کے بعد دنیا بھر کی حکومتیں اور سائبر سیکیورٹی ادارے ہنگامی اقدامات میں مصروف ہیں۔
پی ایچ پی ہے کیا؟
پی ایچ پی ایک اوپن سورس زبان ہے جو ویب سرور پر چلتی ہے اور کسی ویب سائٹ کا ڈیٹا جمع کر کے اسے قابل مطالعہ صفحے میں ڈھالتی ہے۔ وکی پیڈیا، آن لائن دکانیں اور ورڈپریس جیسے پلیٹ فارم اسی پر چلتے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی فرم وِز کے مطابق دنیا کی 70 فیصد ویب سائٹس پی ایچ پی استعمال کرتی ہیں۔
'php2shell' کتنی خطرناک ہے؟
وِز اور کیلِف نامی فرموں کے مطابق 'php2shell' کہلانے والی یہ خامیاں خود زبان کے اندر موجود ہیں اور گزشتہ دس برسوں میں جاری ہونے والے پی ایچ پی کے ورژن ان سے متاثر ہیں۔ وِز کا کہنا ہے کہ مخصوص حالات میں ہیکرز ان کے ذریعے متاثرہ سرورز کا کنٹرول سنبھال کر حساس ڈیٹا چرا سکتے ہیں۔ وِز نے انہیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے دریافت ہونے والی "سب سے سنگین" خامیاں قرار دیا، جبکہ اوپن اے آئی، جس کی ٹیکنالوجی اس دریافت میں استعمال ہوئی، نے اسے حالیہ برسوں کے سب سے اثرانگیز سیکیورٹی مسائل میں سے ایک کہا۔
ویب سائٹس آف لائن
بی بی سی کے مطابق احتیاطی طور پر وکی میڈیا نے اپنے کئی سسٹم بند کیے، جبکہ فن لینڈ کی حکومت، نیدرلینڈز کے سائبر سیکیورٹی ادارے اور اسکاٹ لینڈ کے کئی سرکاری اداروں نے بھی اپنی ویب سائٹس آف لائن کر دیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ تکنیکی تفصیلات عام ہونے کے بعد آنے والے ہفتوں میں حملوں کی کوششیں بڑھ سکتی ہیں، اور کم وسائل والے چھوٹے اداروں کی ویب سائٹس زیادہ خطرے میں ہیں۔
فوری اپ ڈیٹ کی ہدایت
پی ایچ پی فاؤنڈیشن نے بدھ کو ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے پیچ جاری کر دیے اور تمام صارفین سے فوری اپ ڈیٹ کی اپیل کی۔ امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی نے کہا ہے کہ جو ادارے فوری اپ ڈیٹ نہیں کر سکتے وہ اپنے سسٹم آف لائن کر دیں، جبکہ برطانیہ کے نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر نے حملہ آوروں کے نصب کردہ 'بیک ڈورز' کی جانچ کا مشورہ دیا ہے۔ یورپی یونین، سنگاپور اور آسٹریلیا کے اداروں نے بھی اسی نوعیت کے الرٹ جاری کیے ہیں۔
پاکستان میں ورڈپریس اور پی ایچ پی پر چلنے والی ویب سائٹس کی بڑی تعداد کے پیش نظر یہ انتباہ مقامی ویب سائٹ مالکان کے لیے بھی اہم ہے۔
