حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1.91 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ڈیزل 393.66 روپے فی لیٹر میں فروخت ہوگا، جبکہ پیٹرول کی قیمت 377.71 روپے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتیں ہفتہ 24 اکتوبر سے پیر 26 اکتوبر تک لاگو رہیں گی۔
حکومت بدستور پیٹرول پر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور محصولات وصول کر رہی ہے۔ ڈیزل زیادہ تر بھاری ٹرانسپورٹ، بجلی گھروں اور بڑے جنریٹروں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی مال برداری اور روزمرہ اشیا کی لاگت پر اثر ڈالتا ہے۔ پیٹرول زیادہ تر نجی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کا براہِ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے پر پڑتا ہے۔
ذرائع کے مطابق 28 فروری کو امریکہ ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے ڈیزل 281 روپے فی لیٹر تھا، جو 3 اپریل کو 520.35 روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا۔ اسی روز پیٹرول بھی 458.41 روپے کی ریکارڈ سطح پر تھا، جبکہ مارچ کے پہلے ہفتے میں اس کی قیمت 266 روپے تھی۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے 17 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے باعث اب قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر طے ہوں گی اور یہ ذمہ داری اوگرا کو سونپی گئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے پیش نظر حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات بھی دوبارہ نافذ کیے ہیں، جن کے تحت بازار رات 9 بجے بند ہوں گے اور تین ماہ کے لیے سرکاری گاڑیوں کا فیول کوٹہ 50 فیصد کم کر دیا گیا ہے۔
