مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر ہیبرون کے قریب جمعے کی صبح ایک فوجی چوکی پر فائرنگ کے حملے میں کم از کم پانچ اسرائیلی زخمی ہو گئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جوابی فائرنگ میں دونوں فلسطینی حملہ آور مارے گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق عام لباس میں ملبوس دو افراد ایک ہینڈگن اور ایک خودکار رائفل سے اسرائیلی اہلکاروں پر فائرنگ کر رہے تھے۔ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اہلکار جوڈیا جنکشن، جسے فرش الہوا چوکی بھی کہا جاتا ہے، کی طرف روانہ ہوئے، دو حملہ آوروں کو ہلاک کیا اور علاقے میں تلاشی جاری ہے۔ اسرائیلی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ایڈوم کے مطابق زخمیوں میں بیس کے پیٹے کا ایک نوجوان گولیاں لگنے سے انتہائی نازک حالت میں ہے۔ ذرائع کے مطابق زخمیوں میں فوجی اہلکار بھی شامل ہیں، تاہم اس کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایک ’بڑا حملہ‘ ناکام بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو ہیبرون شہر کا محاصرہ کرنے اور آج سے پورے مغربی کنارے کو مکمل طور پر بند کرنے کی تیاری کا حکم دیا گیا ہے۔ منگل کو ہونے والے انتخابات میں نئی مدت کے امیدوار نیتن یاہو نے حملے کے بعد جمعے کی تمام سیاسی تقریبات منسوخ کرنے کا اعلان بھی کیا۔
انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے حملے کو جواز بنا کر رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا، حالانکہ اس حملے سے فلسطینی اتھارٹی کے کسی تعلق کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ نیتن یاہو کے مرکزی انتخابی حریف اور سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ نے فوجیوں کے ردعمل کو سراہتے ہوئے کہا: ’’تمام اسرائیلیوں کی طرح میں بھی زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔‘‘ انتخابات سے چند روز قبل ہونے والے اس واقعے کے بعد مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر مزید سختیوں کا خدشہ ہے۔
