چین کے خود مختار علاقے تبت کے دور افتادہ پہاڑوں میں جمعرات کی رات آنے والے 7 شدت کے زلزلے نے کم از کم 16 جانیں لے لیں۔ چینی سرکاری ذرائع کے مطابق ناگچو شہر کی باقین کاؤنٹی میں آنے والے اس زلزلے میں 46 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق زلزلہ بیجنگ کے وقت کے مطابق رات 10 بج کر 33 منٹ پر (پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بج کر 33 منٹ) آیا اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ مرکز ماڑو ٹاؤن شپ میں تھا جو کاؤنٹی صدر مقام سے تقریباً 70 کلومیٹر دور ہے۔ ٹاؤن شپ کے نائب سربراہ لہاوانگ داگپو نے بتایا کہ جھٹکے دفتر میں واضح محسوس ہوئے، عمارت کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں اور گاؤں گاؤں نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ باقین میں بجلی اور مواصلاتی رابطے منقطع ہو گئے، جبکہ چامدو اور نینگچی سمیت تبت کے دیگر حصوں میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے۔
سرکاری ذرائع کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق جمعہ کی رات دو بج کر 25 منٹ تک 339 گھر منہدم ہو چکے تھے اور زخمیوں میں سے 11 کی حالت تشویشناک تھی۔ متاثرہ دیہات سطح سمندر سے تقریباً 4,800 میٹر بلندی پر واقع ہیں، اور یہ 2023 میں گانسو میں 120 افراد کی جان لینے والے زلزلے کے بعد خطے کا سب سے ہلاکت خیز زلزلہ ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری بیان میں ملبے تلے پھنسے افراد کی تلاش، زخمیوں کے علاج اور جانی نقصان کم سے کم رکھنے کے لیے بھرپور کوششوں کی ہدایت کی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق تبت نے لیول ٹو ہنگامی ردعمل نافذ کر دیا ہے، جبکہ 300 سے زیادہ پولیس اہلکار اور فائر اینڈ ریسکیو کے 347 اہلکار متاثرہ علاقوں میں بھیجے گئے ہیں۔
اب تک کی زیادہ تر معلومات چینی سرکاری میڈیا سے آئی ہیں، کیونکہ تبت تک آزادانہ رسائی محدود ہے۔ نقصانات کا جائزہ ابھی جاری ہے۔
