دریائے دنیپرو کے کنارے آباد چھوٹا سا شہر اولیشکی، جہاں اب زیادہ تر بزرگ شہری خوراک، دوا اور صاف پانی کو ترس رہے ہیں، چند دن کے لیے جنگ کی گھن گرج سے آزاد ہو سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے جمعے کو اعلان کیا کہ روس اور یوکرین نے اس شہر میں 29 اکتوبر سے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ جنگ بندی امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کی کوششوں سے طے پائی، جنہوں نے اپنے نمائندے کے ساتھ روسی اور یوکرینی قیادت سے براہ راست بات کر کے اس کی شرائط طے کیں۔ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے اولیشکی میں تمام فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روکنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ انسانی امداد شہر میں داخل ہو سکے اور ایک مخصوص محفوظ راستے سے شہریوں کے انخلا کی تیاری کی جا سکے۔
اولیشکی فروری 2022 سے روسی قبضے میں ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق جنگ سے پہلے یہاں تقریباً 24 ہزار لوگ رہتے تھے، جبکہ اب صرف 1,700 سے 2,000 افراد باقی ہیں جن میں اکثریت بزرگوں کی ہے اور تقریباً 50 بچے بھی شامل ہیں۔ کاخووکا ڈیم کی تباہی کے بعد شہر کا تقریباً 90 فیصد حصہ زیرِ آب آ گیا تھا، اور مقامی لوگ خوراک کے بڑھتے بحران کی شکایت کرتے رہے ہیں۔
میلانیا ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اولیشکی کی صورتحال انتہائی سنگین ہے اور یہ محاذِ جنگ پر واقع شہر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے دوران دونوں ممالک کی غیر فوجی ٹیمیں گھر گھر جا کر شہریوں سے ملیں گی اور جو لوگ نکلنا چاہیں انہیں ان کی مرضی کی منزل، روس یا یوکرین، تک پہنچانے کا انتظام کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی پر روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اولیشکی کے بچے کھچے مکینوں کے لیے فی الحال سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا یہ مختصر وقفہ انہیں محفوظ زندگی کی طرف لے جا سکے گا۔
