عالمی بینک نے پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ معاشی استحکام کے مرحلے سے نکل کر پائیدار ترقی کی طرف بڑھے، جس کے لیے سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی سرگرمیوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ یہ مشورہ جمعے کو اسلام آباد میں عالمی بینک کے وفد اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی ملاقات میں دیا گیا۔
وفد کی قیادت مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے لیے عالمی بینک کے ریجنل پریکٹس ڈائریکٹر سندیپ مہاجن نے کی، جبکہ کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے ڈویژن ڈائریکٹر سائمن اینڈریوز بھی ان کے ہمراہ تھے۔ سرکاری بیان کے مطابق سندیپ مہاجن نے میکرو اکنامک استحکام کی بحالی پر پاکستان کو مبارکباد دی اور علاقائی تنازع سے پیدا ہونے والے حالیہ بحران سے نمٹنے میں حکومت کی کارکردگی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ استحکام کی کوششوں سے بننے والے مالی ذخائر اور بروقت پالیسی اقدامات نے بیرونی دباؤ سے نمٹنے میں مدد دی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی ترجیح معاشی استحکام کو دیرپا بنانا اور اسے سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی میں بدلنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں پانچ اور دس سالہ مدت کے تین ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کر کے عالمی کیپیٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کی ہے، اور اب کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانا ضروری ہے۔
ملاقات میں نجکاری، واضح ریگولیٹری فریم ورک، انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے مالی وسائل اور روزگار کے ایجنڈے پر بھی بات ہوئی۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت کا دارومدار پالیسیوں کے تسلسل اور ان پر مستقل عمل درآمد پر ہے۔ یہ حالیہ عرصے میں عالمی بینک کی جانب سے اسی نوعیت کا دوسرا مشورہ ہے، جبکہ آئی ایم ایف بھی ٹیکس اصلاحات سے متعلق ایک ورکشاپ میں ایسی ہی تجویز دے چکا ہے۔
