سعودی عرب کے سول ڈیفنس نے ہفتے کو کہا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے اسلام کے دو مقدس ترین شہروں مکہ اور مدینہ کی جانب دو بیلسٹک میزائل داغے، جنہیں راستے ہی میں روک لیا گیا۔ سول ڈیفنس نے شہریوں کو میزائلوں کا ملبہ گرنے کے خطرے سے خبردار کیا۔ سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کی جاری کردہ تصاویر میں سعودی سرزمین پر گرا ہوا ایک بڑا، جھلسا ہوا میزائل نما ٹکڑا دکھائی دیا۔
حوثیوں نے مقدس شہروں کو نشانہ بنانے کے الزام کو "بہت بڑا جھوٹ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اہداف تین سعودی ہوائی اڈے، تیل کی تنصیبات اور ایک فضائی اڈہ تھے۔ خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے ان حملوں کو "گھناؤنا" اور شہریوں کی جان و سلامتی سے کھلی بے پروائی قرار دیا۔
عدن ایئرپورٹ ایک بار پھر نشانے پر
اسی روز یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی وزارت ٹرانسپورٹ نے کہا کہ حوثیوں نے عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دو بیلسٹک میزائل داغے، جو اس ماہ اس نوعیت کا چوتھا حملہ ہے۔ وزارت کے مطابق یہ حملے شہری ہوابازی کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ یمنی حکام کا کہنا ہے کہ کوسٹ گارڈ کا ہیڈکوارٹر اور ایک اور عمارت بھی نشانہ بنی، جبکہ حوثیوں نے النصر کیمپ اور عدن کے بحری اڈے پر حملوں کا دعویٰ کیا۔
یمنی فوج کے مطابق جمعے کو حوثیوں کا ایک میزائل خرابی کے باعث صنعا میں ایک گھر پر جا گرا جس سے تین افراد ہلاک ہو گئے۔ دوسری جانب حوثیوں کے زیر انتظام ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ سعودی اتحاد کے فضائی حملوں میں صنعا اور حدیدہ میں کئی شہری مارے گئے، تاہم اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی اور ریاض نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
2022 میں طے پانے والی نازک جنگ بندی جولائی میں ٹوٹنے کے بعد سے حوثی سعودی توانائی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں، اور یمن کے محاذوں پر، خاص طور پر تعز میں، شدید لڑائی جاری ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے لیے بھی اہم ہے، جس نے حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کی ہے۔
