مواد پر جائیں

حوثی حملوں کے بعد مکہ دفاعی معاہدہ آزمائش میں، پاکستان کا فوری فوجی اقدام ابھی واضح نہیں

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر حوثی حملوں کے بعد توجہ بڑھی ہے، تاہم اسلام آباد کا کہنا ہے کہ عملی طریقہ کار ابھی تشکیل پا رہا ہے اور پاکستان سفارت کاری کی حمایت جاری رکھے گا۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اگست میں طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے بعد عملی آزمائش کا سامنا کر رہا ہے، تاہم پاکستان نے ابھی تک کسی نئی فوجی تعیناتی یا یمن میں براہ راست کارروائی کا اعلان نہیں کیا۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے رواں ماہ کہا تھا کہ سعودی عرب پر حملے معاہدے کی دفعات کو فعال کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ ایک دفاعی اتحاد ہے اور اس کے عملی نفاذ کے لیے ابھی ادارہ جاتی طریقہ کار اور فریم ورک تیار کیے جا رہے ہیں۔ دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی حمایت جاری رکھے گا۔

سعودی، پاکستانی اور ترک قیادت نے سات اگست کو مکہ میں معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ سرکاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تاہم معاہدے میں ہر ممکن صورتحال کے لیے خودکار فوجی تعیناتی کی تفصیل عوامی طور پر بیان نہیں کی گئی۔

پاکستان نے سعودی عرب کے دفاع سے وابستگی کا اعادہ کیا ہے، جبکہ ترکیہ نے بھی ضرورت پڑنے پر دفاعی تعاون کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ فی الحال دستیاب سرکاری بیانات میں یمن کے خلاف پاکستانی فوجی کارروائی کے حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوتی۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/makkah-defence-pact-pakistan-houthis-operationalization-2026-09-25?lang=ur