سعودی عرب جانے والے عمرہ زائرین کے لیے کراچی ایئرپورٹ پر گردن توڑ بخار اور انفلوئنزا کی معمول کی ویکسینیشن روک دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ویکسین کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بعد کیا گیا، اور جناح ٹرمینل پر ہنگامی ویکسینیشن کے لیے قائم بارڈر ہیلتھ سروسز کا کاؤنٹر بھی ہٹا دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ ڈسپنسری کے بیشتر عملے کو فارغ کر دیا گیا ہے اور اب وہاں صرف ایک ڈسپنسر اور ایک دوسرا ملازم ڈیوٹی پر ہیں۔ ویکسینیشن پروگرام کے لیے رکھے گئے دیہاڑی دار کارکنوں کو بھی تاحکم ثانی کام پر نہ آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اسٹاک میں صرف 4 ہزار خوراکیں باقی ہیں جو ان مسافروں کے لیے مختص کر دی گئی ہیں جو نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے ویکسینیشن فیس ادا کر چکے ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت پیدا ہوئی ہے جب کراچی میں انفلوئنزا کے کیسز میں اضافے کے بعد سندھ حکومت نے کراچی ایئرپورٹ سے سفر کرنے والے عمرہ زائرین کے لیے فلو ویکسینیشن لازمی قرار دی تھی، جبکہ گردن توڑ بخار اور پولیو کی ویکسینیشن اور اس کا سرٹیفکیٹ بھی روانگی سے قبل لازمی ہے۔ نئی ہدایات کے تحت لازمی ویکسینیشن کی ڈیڈ لائن 20 نومبر تک بڑھا دی گئی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق موجودہ فلو وائرس کی علامات کووڈ 19 سے ملتی جلتی ہیں، اگرچہ اس پر اختلاف ہے کہ یہ انفلوئنزا کی نئی قسم ہے یا کووڈ کی بدلی ہوئی شکل۔ ایسے میں ہزاروں زائرین کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ڈیڈ لائن سے پہلے ویکسین کہاں سے ملے گی۔
