پاکستان نے ہفتے کو افغان طالبان حکومت کے اس مؤقف کو سختی سے رد کر دیا کہ کابل نہ تو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی دلچسپی۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ایک بیان میں ان بیانات کو "توجہ ہٹانے والے الزامات" قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں پر الزام تراشی سے طالبان حکومت اپنی اس ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔
"پاکستان کے خدشات قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں،" وزارت نے کہا اور اپنے مؤقف کے حق میں اقوامِ متحدہ اور امریکہ کی رپورٹس کا حوالہ دیا۔ بیان میں سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی سولہویں رپورٹ اور جنوری تا مارچ 2026 کے لیے امریکی کانگریس کو پیش کی گئی لیڈ انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کا ذکر کیا گیا۔ وزارت کے مطابق امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کو اپنی سرزمین سے سرگرم رہنے دے رہے ہیں اور اس تنظیم کے جنگجوؤں کی تعداد چار سے چھ ہزار کے درمیان ہے۔
وزارت نے سرحد پار دراندازی کی بار بار کوششوں، انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں افغان شہریوں کی ہلاکت اور غیر ملکی ساختہ اسلحے کی برآمدگی کو بھی اپنے خدشات کی بنیاد بتایا۔ بیان میں قندھار سمیت طالبان حکام کی جانب سے شدت پسند گروہوں کی مبینہ سہولت کاری پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ "ایسے خدشات کو محض تردید سے رد نہیں کیا جا سکتا، ان کے لیے معتبر وضاحت اور قابلِ تصدیق اقدامات درکار ہیں،" وزارت نے کہا۔
اسلام آباد نے مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی، بلوچستان لبریشن آرمی اور ان سے وابستہ گروہوں کی ہر قسم کی حمایت ختم کرے۔ وزارت نے واضح کیا کہ پاکستان کے سکیورٹی اقدامات افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہیں، اور پاکستان باہمی احترام اور ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رابطے کے لیے تیار ہے۔
یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار سے ہونے والے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور ستمبر 2026 میں پاکستان میں بارہ برسوں کے دوران کسی ایک مہینے میں سب سے زیادہ شدت پسند حملے ریکارڈ کیے گئے۔ اسی روز دفتر خارجہ نے سابق امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کے افغانوں کو مسلح کرنے کے دعوے کو بھی مسترد کیا تھا۔
