وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کو کہا ہے کہ حکومت پاکستان کے موجودہ یورو بانڈ قرض کو ٹوکنائز کرنے کے امکان پر غور کر رہی ہے، اور اس منصوبے کے لیے تجاویز (آر ایف پی) طلب کرنے سے پہلے وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔
وہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور لمز کے اشتراک سے منعقدہ 'ڈیجیٹل اثاثے اور بینکاری کا مستقبل' کے موضوع پر مکالمے سے ورچوئل خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بات چیت جاری ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد ہی اگلا قدم اٹھایا جائے گا۔
ٹوکنائزیشن سے مراد کسی مالی اثاثے، جیسے بانڈ، کو بلاک چین پر ڈیجیٹل ٹوکن کی شکل دینا ہے، جس سے لین دین تیز اور سستا ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔ وزیرِ خزانہ نے ترسیلاتِ زر کو بھی اس کا ایک ممکنہ استعمال قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستان کو گزشتہ مالی سال میں 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، اور رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے رجحان سے لگتا ہے کہ یہ رقم 44 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔
اورنگزیب نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کو ان کے معاشی فائدے کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بیرونِ ملک سے رقم بھیجنا سستا ہو سکتا ہے، کیا کاروبار کو ادائیگی جلد مل سکتی ہے اور کیا مالی نظام کے استحکام کو محفوظ رکھتے ہوئے پیداواری سرمایہ کاری لائی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے لیے مالی نظم و ضبط، مضبوط برآمدات اور نجی سرمایہ کاری ضروری ہے۔
