صحافیوں کے تحفظ کے لیے سرگرم پیرس کی تنظیم رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے پیر 2 نومبر کو جاری کی گئی اپنی سالانہ فہرست میں افغان طالبان کے سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ کو ان 33 شخصیات، اداروں اور گروہوں میں شامل کیا ہے جنہیں وہ 2026 میں آزادیٔ صحافت کے 'دشمن' قرار دیتی ہے۔
یہ فہرست صحافیوں کے خلاف جرائم پر سزا نہ ملنے کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی۔ آر ایس ایف نے اخوندزادہ کو سیاسی زمرے میں رکھا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور نکاراگوا کے صدر ڈینیئل اورٹیگا کے نام بھی شامل ہیں۔ تنظیم کے مطابق ان سب کے طریقے مختلف ہیں لیکن مقصد ایک ہے: آزاد آوازوں کو خاموش کرنا اور لوگوں کے معلومات تک رسائی کے حق کو پامال کرنا۔
پانچ زمروں میں تقسیم فہرست
اس سال فہرست کو سیاسی، سکیورٹی، قانونی، سماجی اور معاشی زمروں میں بانٹا گیا ہے۔ سکیورٹی زمرے میں اسرائیلی افواج، میکسیکو کے منشیات کارٹل اور چینی کمیونسٹ پارٹی شامل ہیں، جبکہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کا نام اس سال شامل کیا گیا۔ قانونی زمرے میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور قازق صدر قاسم جومارت توکایف کے نام ہیں، اور معاشی زمرے میں ٹیکنالوجی کمپنیاں الفابیٹ اور میٹا شامل کی گئی ہیں۔ آر ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل تیبو بروتاں نے کہا کہ ان عناصر کی نشاندہی کا مقصد یہ ہے کہ صحافت پر حملوں کو معمول نہ بننے دیا جائے۔
افغانستان میں اگست 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد سے میڈیا پر پابندیاں بڑھی ہیں۔ صحافیوں اور میڈیا اداروں نے گرفتاریوں، معلومات تک رسائی میں رکاوٹوں اور نشریات پر سخت کنٹرول کی شکایات کی ہیں، جبکہ خواتین صحافیوں کی شرکت پر بھی قدغنیں لگی ہیں اور متعدد ادارے بند یا محدود ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب طالبان حکام صحافیوں سے سلوک پر تنقید مسترد کرتے رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ میڈیا ادارے ملکی قوانین اور پالیسیوں کی پابندی کے ساتھ کام کرنے کے لیے آزاد ہیں۔
