ایران کے جنوبی ساحل کے قریب واقع جزیرے قشم پر پیر کی رات یکے بعد دیگرے کئی دھماکے سنے گئے۔ اسی دوران امریکی حکام کے حوالے سے اطلاعات سامنے آئیں کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ایرانی اہداف کے خلاف ایسی کارروائیاں کی ہیں جنہیں وہ 'دفاعی حملے' قرار دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے نے بتایا کہ عینی شاہدین نے جزیرے کے اوپر دو طیارے پرواز کرتے دیکھے۔ ایک نیم سرکاری ایرانی ادارے کے مطابق ساحلی شہر بندر لنگہ میں بھی سمندر کی سمت سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا کہ نشانہ وہ ایرانی اہداف تھے جو امریکی اثاثوں کے خلاف زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل استعمال کر رہے تھے۔ بعض امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد تجارتی جہاز رانی پر حملے کی ایرانی صلاحیت کو محدود کرنا تھا، اور یہ کارروائی بڑے پیمانے پر جنگ کی واپسی کا اشارہ نہیں۔ ایک اور عہدیدار کے مطابق یہ حملے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے پیر کو ایک امریکی طیارے پر فائرنگ کے جواب میں کیے گئے۔ ایرانی یا امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اس سے قبل پیر ہی کو پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے الیکٹرانک جنگی نظام کے ذریعے قشم کے جنوب میں دو امریکی جاسوس ڈرون قبضے میں لے لیے اور آبنائے ہرمز کے مشرق میں ایک ایم کیو 9 ڈرون تباہ کر دیا۔
یہ پیش رفت امریکا میں منگل کو ہونے والے اہم وسط مدتی انتخابات سے عین پہلے اور ایسے وقت سامنے آئی ہے جب نئی جنگ روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہیں۔ صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ ایران جلد سمجھوتہ چاہتا ہے اور تیل کی قیمتیں تقریباً 10 ڈالر فی بیرل گر گئی ہیں، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ 'گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے'۔
